سری لنکا کے قریب سمندر میں ڈوبنے والے ایرانی بحری جہاز کے عملے کی لاشوں کی برآمدگی کا عمل جاری ہے، جبکہ خطے میں پہلے سے موجود ایران امریکا کشیدگی نے اس واقعے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والے ایرانی جہاز میں سوار افراد میں سے کم از کم 87 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ اس سے قبل تقریباً 100 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی بحری جنگی جہاز پر امریکی حملہ، بھارت کی متضاد پالیسی اور بحرِ ہند میں اس کے کردار پر سوالات
وزیر خارجہ کے مطابق سری لنکا نیوی اور سری لنکا ایئر فورس نے 1979 میں دستخط شدہ بین الاقوامی میری ٹائم سرچ اینڈ ریسکیو کنونشن کے تحت فوری امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ بحری اور فضائی یونٹس نے مشترکہ طور پر سرچ آپریشن کیا اور لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔

یاد رہے کہ بحرِ ہند اور سری لنکا کے اطراف کے سمندری راستے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہیں، اس لیے ایسے کسی بھی واقعے کے علاقائی اور عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔













