ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدہ صورتحال کے بعد دنیا بھر میں جنگ کے معاشی اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
ان منفی اثرات کا دائرہ کار اب پاکستان تک بھی پہنچ چکا ہے، جہاں ایک جانب پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئی ہیں تو دوسری جانب ایران سے آنے والی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کوئٹہ کے مقامی تاجر مقدس احمد نے بتایا کہ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران سے اشیائے ضروریہ خرید کر کوئٹہ میں فروخت کر رہے ہیں، تاہم حالیہ کشیدگی کے بعد ایرانی مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ایران پر حملے کے خطے پر کیا اثرات پڑیں گے؟
مقدس احمد کے مطابق سرحدی علاقوں اور کوئٹہ میں فروخت ہونے والا ایرانی پیٹرول جو پہلے 185 روپے فی لیٹر میں دستیاب تھا، اب بڑھ کر 220 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران سے آنے والے خوردنی تیل اور گھی کی قیمتوں میں بھی 200 روپے تک اضافہ ہوا ہے، ماضی میں 5 کلو گھی 3800 سے 4000 روپے میں دستیاب تھا، جو اب 4200 سے 4300 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ 5 لیٹر خوردنی تیل کی قیمت بڑھ کر 4500 روپے تک جا پہنچی ہے۔
اسی طرح ایران سے آنے والے خشک مصالحہ جات کی قیمتوں میں 20 سے 30 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔ کیک، بسکٹ اور مختلف اقسام کے مشروبات سمیت دیگر درآمدی اشیا بھی مہنگی ہو چکی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران پر اسرائیلی حملے، بلوچستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟
دوسری جانب کوئٹہ کے تاجر اور ایوان صنعت و تجارت کے رہنما آغا گل خلجی کا کہنا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان سالانہ دوطرفہ تجارت کا حجم 80 سے 85 ارب روپے کے درمیان ہے، اگر سرحد طویل عرصے تک بند رہی تو یہ حجم کم ہو کر 20 سے 30 ارب روپے تک محدود ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ایران سے تعمیراتی میٹریل، اشیائے خوردونوش، خشک مصالحہ جات اور دیگر ضروری سامان بڑی مقدار میں پاکستان آتا ہے، جبکہ پاکستان سے چاول، گندم، دالیں اور سبزیاں ایران برآمد کی جاتی ہیں۔
’اس دوطرفہ تجارت سے نہ صرف کاروباری طبقے کو منافع حاصل ہوتا ہے بلکہ ملکی زرِمبادلہ میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث تجارتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہو گئی ہیں۔‘
مزید پڑھیں: عالمی مارکیٹس میں ایران جنگ کے اثرات، توانائی کی قیمتیں عروج پر
ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ بلوچستان کی سرحدی معیشت اپنی گہری جڑیں رکھتی ہے، غیر رسمی اور رسمی تجارت کے ذریعے ایندھن، خوراک اور دیگر اشیا کم قیمت پر دستیاب رہتی تھیں، جس سے مقامی منڈیوں میں استحکام برقرار رہتا تھا۔
تاہم موجودہ کشیدگی کے نتیجے میں 3 بڑے معاشی رجحانات سامنے آ رہے ہیں جن میں مہنگائی میں تیزی سے اضافہ، پیٹرول اور خوردنی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ، خوراک اور روزمرہ اخراجات بڑھ رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر عام شہری پر پڑ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ وسیع
دوسرا تجارتی حجم میں کمی سرحدی بندش یا غیر یقینی صورتحال سے دوطرفہ تجارت متاثر ہو رہی ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں سست اور منافع میں کمی کا خدشہ ہے اور تیسرا زرِمبادلہ اور مقامی معیشت پر دباؤ، تجارت میں کمی سے نہ صرف سرحدی علاقوں بلکہ قومی سطح پر زرِمبادلہ کے ذخائر اور ٹیکس وصولیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو پاکستان، خصوصاً بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں مہنگائی اور معاشی دباؤ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ایسے میں حکومت کے لیے ضروری ہو گا کہ متبادل سپلائی چین اور مقامی منڈیوں کے استحکام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عوامی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔













