ایران نے پڑوسی ملک عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں موجود کرد گروہوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا جبکہ اسی دوران ایران نے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کی 19ویں لہر بھی شروع کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملے کو شیعہ سنی تنازعہ کا رنگ دے کر اُمت کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
یہ کارروائیاں اس وقت جاری علاقائی جنگ کے چھٹے روز کی جا رہی ہیں جس نے خطے کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی نے جمعرات کی صبح رپورٹ کیا کہ فوج ایران مخالف علیحدگی پسند قوتوں کو نشانہ بنا رہی ہے تاہم حملوں کے مقام کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔
ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس نے بھی تصدیق کی کہ مغربی سرحد کے راستے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے علیحدگی پسند گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

وزارت کے مطابق ان کارروائیوں میں ان گروہوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے کہا کہ ایرانی فورسز کرد شہریوں کے ساتھ مل کر اسرائیلی اور امریکی منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیے: امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جنگ روکنے کی قرارداد مسترد کر دی
عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں یہ تازہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو تقریباً ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق اس جنگ کے آغاز سے اب تک ایران بھر میں کم از کم 1,045 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پریس ٹی وی کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں رات کے وقت دھماکوں سے آسمان روشن ہوتا دکھائی دیا۔
اس سے قبل شمالی عراق کے صوبے سلیمانیہ میں بھی متعدد دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق صوبے میں کم از کم 4 دھماکے سنے گئے جو عربت، زرگوئیز اور سردش کے علاقوں کے قریب ہوئے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کردستان ٹوائلرز ایسوسی ایشن (کومالا) کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا، جو عراق میں موجود ایک ایرانی کرد مسلح گروہ ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ کے بعد فیول کی کمی کا خدشہ، کیا پاکستان میں ورک فرام ہوم کا فیصلہ ہورہا ہے؟
یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اطلاعات ہیں کہ ایرانی کرد مسلح گروہوں نے حالیہ دنوں میں امریکا سے مشاورت کی ہے کہ آیا ایران کے مغربی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے جائیں اور اس سلسلے میں انہیں واشنگٹن سے کس نوعیت کی مدد مل سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایران عراق سرحد کے قریب موجود ایرانی کرد گروہوں کے اتحاد نے ایسے ممکنہ حملوں کی تیاری بھی شروع کر رکھی ہے تاکہ ایران کی فوجی طاقت کو کمزور کیا جا سکے۔
ادھر عراقی کردستان کی علاقائی حکومت نے جمعرات کو ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کرد گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے یا انہیں ایران بھیجنے کے کسی منصوبے میں شامل نہیں۔
علاقے کے صدر نچیروان بارزانی نے کہا کہ کردستان کو کسی ایسے تنازع یا فوجی کشیدگی کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو شہریوں کی جان و سلامتی کو نقصان پہنچائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کردستان خطے کی علاقائی سالمیت اور آئینی کامیابیوں کا تحفظ صرف اتحاد، ہم آہنگی اور مشترکہ قومی ذمہ داری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے جمعرات کی صبح اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کے خلاف حملوں کے نئے مرحلے کا اعلان بھی کیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق مغربی گلیل کے علاقے میں اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے 2 ڈرون مار گرائے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران کی ترکیہ کی جانب میزائل فائر کرنے کی تردید
سعودی عرب نے بھی کم از کم 3 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ قطر نے دوحہ میں امریکی سفارت خانے کے قریب رہائشی علاقوں کو خالی کرانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔














