ایرانی کرد باغی گروپس ایران کے خلاف لڑائی میں شامل ہونے کے لیے تیار

جمعرات 5 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شمالی عراق میں قائم ایرانی کرد اختلافی گروپوں کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے اندر ممکنہ سرحد پار فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں اور امریکی حکام نے عراقی کرد قیادت سے کہا ہے کہ وہ اس میں اس کی مدد کریں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے ایران پر حملوں کے بعد ایکواڈور میں بھی فوجی آپریشن شروع کر دیا

اے پی کی ایک رپورٹ کے مطابق کرد گروپوں کو ایرانی اپوزیشن کا سب سے منظم حصہ سمجھا جاتا ہے اور اندازہ ہے کہ ان کے پاس ہزاروں تربیت یافتہ جنگجو موجود ہیں۔ اگر یہ گروپ جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو اس سے تہران کی حکومت کے لیے بڑا چیلنج پیدا ہو سکتا ہے اور عراق بھی اس تنازع میں مزید کھنچ سکتا ہے۔

کرد گروپوں کی سرحد کے قریب نقل و حرکت

شمالی عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں قائم کردستان فریڈم پارٹی (پاک) کے عہدیدار خلیل ندیری نے بتایا کہ ان کے کچھ جنگجو صوبہ سلیمانیہ میں ایران کی سرحد کے قریب علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں اور ہائی الرٹ پر ہیں۔

مزید پڑھیے: ایران نے کرد گروہوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا

ان کا کہنا تھا کہ کرد اپوزیشن گروپوں کے رہنماؤں سے امریکی حکام نے ممکنہ آپریشن کے حوالے سے رابطہ کیا ہے تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

امریکی مؤقف

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ ایرانی کرد گروپوں کو اسلحہ فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے تو انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکی مقاصد کسی مخصوص گروپ کو مسلح کرنے یا اس کی حمایت پر مبنی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر فریق کیا کر رہے ہیں اس سے وہ آگاہ ہیں لیکن امریکی حکمت عملی کا مرکز یہ نہیں ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ہفتے کے روز ایران پر حملوں سے قبل جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں نئی جنگ شروع ہوئی پاک نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے تہران کی جانب سے مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے جواب میں پاسداران انقلاب کے نیم فوجی دستوں پر حملے کیے تھے۔ تاہم گروپ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ انہوں نے عراق سے ایران کے اندر کوئی فورس نہیں بھیجی۔

کرد جنگجوؤں کا ممکنہ کردار

اگر ایرانی اور عراقی کرد گروپ جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ کسی بڑی زمینی فورس کی اس لڑائی میں باضابطہ شمولیت ہوگی۔ ان کرد جنگجوؤں کو داعش کے خلاف جنگ کا تجربہ بھی حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: ایران میں 300 سے زائد بیلسٹک میزائل لانچرز تباہ کردیے، اسرائیل کا دعویٰ

ایک اور ایرانی کرد گروپ کومالا کے ایک عہدیدار نے بدھ کو بتایا کہ ان کے جنگجو ایک ہفتے سے 10 دن کے اندر سرحد عبور کرنے کے لیے تیار ہیں اور مناسب حالات کا انتظار کر رہے ہیں۔ سکیورٹی خدشات کے باعث انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔

ایران میں کردوں کی مزاحمت کی تاریخ

ایران میں کرد آبادی کی موجودہ اسلامی جمہوریہ اور اس سے پہلے کی بادشاہت دونوں کے خلاف بغاوتوں اور شکایات کی طویل تاریخ رہی ہے۔

شاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں کردوں کو اکثر نظر انداز کیا گیا اور ان پر سختیاں کی گئیں جس کے باعث کئی مرتبہ بغاوتیں بھی ہوئیں۔

سنہ1979  کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والی حکومت نے بھی کرد باغیوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ ان جھڑپوں میں ایرانی فورسز نے کئی کرد قصبوں اور دیہات کو تباہ کیا اور چند مہینوں کے دوران ہزاروں افراد مارے گئے۔

یہ بھی پڑھیے: عالمی ادارہ صحت نے ایران میں اسپتالوں پر 13 حملوں اور 4 اموات کی تصدیق کر دی

اگرچہ کرد گروپ موجودہ حکومت کو ہٹانے کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن ان کے دیگر اپوزیشن گروپوں سے اختلافات بھی رہے ہیں، خاص طور پر سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے دھڑے سے، جنہوں نے کرد گروپوں پر ایران کو تقسیم کرنے کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔

عراقی کرد قیادت کی محتاط حکمت عملی

دوسری جانب عراقی کرد قیادت اس ممکنہ آپریشن کے معاملے پر محتاط دکھائی دے رہی ہے۔

تین عراقی کرد حکام نے میڈیا کو بتایا کہ اتوار کی رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ مسعود بارزانی اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے رہنما بافل طالبانی سے فون پر بات کی، جس میں ایران کی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ دونوں عراقی کردستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہ ہیں۔

حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرمپ نے عراقی کرد قیادت سے کہا کہ وہ ایرانی کرد گروپوں کی ایران کے اندر ممکنہ فوجی کارروائیوں میں مدد کریں اور سرحد کھول دیں تاکہ وہ آزادانہ طور پر آمد و رفت کر سکیں۔

مزید پڑھیے: امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جنگ روکنے کی قرارداد مسترد کر دی

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اس حوالے سے کہا کہ صدر ٹرمپ نے شمالی عراق میں موجود امریکی فوجی اڈے کے معاملے پر کرد رہنماؤں سے بات کی تھی تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ کسی مخصوص فوجی منصوبے پر اتفاق ہوا ہے۔

ایران کے ردعمل کا خدشہ

عراقی کرد حکام کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر وہ براہ راست اس تنازع میں شامل ہوئے تو ایران سخت ردعمل دے سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران اور اس سے منسلک عراقی ملیشیاؤں نے ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں جن کا ہدف اربیل میں امریکی فوجی اڈے، امریکی قونصل خانہ اور کرد گروپوں کے ٹھکانے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کو پیغام بھیجا نہ کسی پیغام کا جواب دینگے، ایران

زیادہ تر حملے روک لیے گئے تاہم کچھ شہری گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ سکیورٹی خدشات کے باعث ایک اہم گیس فیلڈ کی بندش کے بعد علاقے میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔

عراق کی سرحدی سکیورٹی سخت

پیٹریاٹک یونین آف کردستان نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ بافل طالبانی نے صدر ٹرمپ سے فون پر بات کی تھی جس میں امریکی جنگی مقاصد کے بارے میں وضاحت کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ پارٹی کے نزدیک بہترین حل مذاکرات کی میز پر واپسی ہے۔

دوسری طرف عراق نے سرحدی سکیورٹی سخت کرنے کے اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں۔

عراق کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے فون کال میں عراق سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی اپوزیشن گروپ کو دونوں ممالک کی سرحد عبور کرنے سے روکے۔

الاعرجی نے کہا کہ عراق اپنی سرزمین سے کسی بھی گروپ کو ایران کے خلاف کارروائی کرنے یا سرحد پار دراندازی کی اجازت نہیں دے گا اور اس مقصد کے لیے سرحدی علاقوں میں اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ایران سے آنے والی اشیا مہنگی، سرحدی تجارت بھی متاثر ہونے کا خدشہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عراقی کرد گروپ سرحد پار کسی حملے میں شامل ہوتے ہیں تو اس سے ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کے ساتھ کشیدگی بھی مزید بڑھ سکتی ہے جنہوں نے حالیہ دنوں میں اربیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں کفایت شعاری اقدامات نافذ، اسپیکر کی تنخواہ و مراعات ترک، اخراجات میں بڑی کمی کا اعلان

شوال کے چاند کی پیدائش کب ہوگی؟ اسپارکو نے پیشگوئی کردی

عید سے قبل صحافیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، آر آئی یو جے

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

ون ڈے ٹیم میں ڈیبیو کرنے والے معاذ صداقت جذباتی ہوگئے، والدہ کا ذکر کرکے آبدیدہ

ویڈیو

5جی اسپیکٹرم کی نیلامی: کیا انٹرنیٹ کے مسائل ختم ہوجائیں گے؟

حکومت نوجوانوں کے لیے کیا کررہی ہے؟ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن روبینہ اعوان کا خصوصی انٹرویو

پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے بعد پرانی موٹر سائیکلوں کو الیکٹرک بنانے کا رجحان بڑھ گیا

کالم / تجزیہ

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے