نیپال میں ہونے والے عام انتخابات میں ریپر سے سیاستدان بننے والے بالیندر شاہ کی جماعت کو واضح برتری حاصل ہوتی نظر آ رہی ہے۔
جمعہ تک دستیاب نتائج کے مطابق شاہ کی جماعت زیادہ تر نشستوں پر اپنے حریفوں سے آگے ہے۔
جن میں گزشتہ سال عوامی احتجاج کے بعد اقتدار سے ہٹائے گئے سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال عام انتخابات، 275 نشستوں کے لیے ووٹنگ جاری
35 سالہ بالیندر شاہ، جو دارالحکومت کٹھمنڈو کے سابق میئر ہیں، انتخابی مہم کے دوران وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔
نوجوانوں میں مقبول اس رہنما نے سوشل میڈیا پر تقریباً راک اسٹار جیسی شہرت حاصل کر لی ہے، جو گزشتہ سال نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد مزید بڑھی۔
کٹھمنڈو میں ووٹ ڈالنے والے 33 سالہ دیپک ادھیکاری نے کہا کہ انہوں نے راستریہ سوتنترا پارٹی کو صرف اس لیے ووٹ دیا کیونکہ بالیندر شاہ اس کا حصہ ہیں۔
Nepal's vote count puts ex-rapper's party ahead in two-thirds of seats https://t.co/MoKOmw9cIe https://t.co/MoKOmw9cIe
— Reuters (@Reuters) March 6, 2026
ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ شاہ وزیراعظم بن کر ملک کو خوشحال بنائیں گے۔
دوپہر تک کے رجحانات کے مطابق 3 سال قبل قائم ہونے والی شاہ کی معتدل نظریات کی جماعت راشٹریہ سوتنترا پارٹی 65 میں سے 52 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے تھی جہاں ابتدائی نتائج سامنے آ چکے تھے۔
نیپال کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کی کل 275 نشستیں ہیں، جن میں سے 165 نشستوں پر براہِ راست انتخابات کے ذریعے ارکان منتخب کیے جا رہے ہیں۔
جبکہ باقی نشستیں متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت تقسیم کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: نیپال کے سرحدی شہر برگنج میں کشیدگی، مسجد کی بے حرمتی کے بعد کرفیو نافذ
ابتدائی رجحانات کے مطابق سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کی کمیونسٹ پارٹی آف نیپال 4 نشستوں پر جبکہ ملک کی قدیم ترین جماعت نیپال کانگریس 6 نشستوں پر آگے ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بالیندر شاہ بھارتی سرحد کے قریب ضلع جھاپا کے حلقہ 5 میں خود سابق وزیراعظم اولی کے مقابلے میں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔
انتخابی حکام کے مطابق براہِ راست انتخابات کے مکمل نتائج جمعہ کی شام یا ہفتہ تک سامنے آنے کا امکان ہے۔
اگر بالیندر شاہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ان کے لیے غیر معمولی سیاسی عروج ہوگا۔
Could Nepal have a 35 year old
Rapper as its youngest prime Minister ? https://t.co/1an4XPEgtx— Manoranjan Pegu (@manoranjanpegu) March 6, 2026
وہ ابتدا میں اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرنے والی ریپ موسیقی کے باعث عوامی توجہ کا مرکز بنے اور اب اپنی مقبولیت کو اعلیٰ سیاسی عہدے تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
30 ملین آبادی والے نیپال میں کئی دہائیوں سے سیاسی عدم استحکام جاری ہے، جس کے باعث زرعی معیشت، بڑھتی بے روزگاری اور بدعنوانی جیسے مسائل شدت اختیار کر چکے ہیں۔
گزشتہ برس ستمبر میں سوشل میڈیا پر عارضی پابندی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں نے ملک گیر احتجاج کی شکل اختیار کر لی تھی۔
ان مظاہروں کے دوران جھڑپوں اور ہلاکتوں کے بعد سابق وزیراعظم اولی کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
مزید پڑھیں: نیپال میں لینڈنگ کے دوران رن وے سے پھسلنے والا طیارہ بڑی تباہی سے بچ گیا، 55 مسافر محفوظ
نیپال میں جمعرات کو نئے پارلیمنٹ کے لیے ووٹنگ ہوئی، جو ستمبر 2025 کی حکومت مخالف تحریک کے بعد قائم عبوری حکومت کی جگہ لے گی۔
اس تحریک کے دوران کم از کم 77 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ پارلیمنٹ اور متعدد سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔
زیادہ تر نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے ان مظاہروں کا آغاز سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف احتجاج سے ہوا تھا، تاہم بعد میں بدعنوانی اور کمزور معیشت کے خلاف عوامی غصہ بھی اس میں شامل ہو گیا۔













