نیپال میں آج عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جس میں پارلیمنٹ کی 275 نشستوں پر نمائندوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔ تقریباً تین کروڑ آبادی والے اس ملک میں نئی پارلیمنٹ کے قیام کے لیے شہری اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔
یہ انتخابات قبل از وقت منعقد ہو رہے ہیں، کیونکہ گزشتہ سال ستمبر 2025 میں جین زی کی قیادت میں ہونے والے بڑے عوامی احتجاج کے بعد پارلیمنٹ تحلیل کر دی گئی تھی۔
نیپال کے آئین کے مطابق پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد 6 ماہ کے اندر انتخابات کرانا لازم ہوتا ہے۔ اسی آئینی تقاضے کے تحت 5 مارچ 2026 کو عام انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
دارالحکومت کٹھمنڈو کے تاریخی دربار اسکوائر سمیت ملک بھر میں پولنگ اسٹیشن قائم کر دیے گئے ہیں۔
نگران وزیراعظم سشیلا کرکی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا خوف و خطر اپنا ووٹ ڈالیں اور جمہوری عمل میں بھرپور حصہ لیں۔
ملک بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 10 ہزار 963 پولنگ اسٹیشنوں پر 3 لاکھ 41 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
برفانی اور دشوار گزار علاقوں میں انتخابی سامان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچایا گیا تاکہ دور دراز علاقوں کے شہری بھی ووٹ ڈال سکیں۔
انتخابی نظام اور نشستوں کی تقسیم
نیپال کے انتخابی نظام کے تحت 165 ارکان براہِ راست ووٹنگ کے ذریعے منتخب ہوں گے۔
110 نشستیں متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت سیاسی جماعتوں کو دی جائیں گی۔
68 سیاسی جماعتیں میدان میں
اس انتخاب میں 68 سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ہزاروں امیدوار مختلف نشستوں پر مدمقابل ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس بار نوجوان ووٹرز اور نئی سیاسی جماعتوں کا کردار فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ روایتی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ نئی جماعتیں بھی نمایاں کارکردگی دکھانے کے لیے پُرامید ہیں۔
نتائج سامنے آنے کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کا عمل شروع ہو جائے گا، جو نیپال کی سیاسی سمت کا تعین کرے گا۔













