ماہرین کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ 30 سال کے دوران انٹارکٹیکا میں اتنی بڑی مقدار میں برف پگھلی ہے کہ اگر اسے پھیلا دیا جائے تو یہ لاس اینجلس کے رقبے سے تقریباً 10 گنا زیادہ علاقے کو ڈھانپ سکتی ہے۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنس دانوں نے سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے کی، جن کا جائزہ گزشتہ 30 سال کے عرصے پر مشتمل تھا۔ تحقیق کے مطابق 1996 سے اب تک انٹارکٹیکا کے مختلف حصوں میں تقریباً 5,000 مربع میل برفانی پرت پگھل چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا میں خون کے رنگ کی آبشار، سائنسدانوں نے وجہ بتادی
نتائج کے مطابق تیزی سے برف پگھلنے والے علاقوں میں مغربی انٹارکٹیکا، انٹارکٹیکا جزیرہ نما اور مشرقی انٹارکٹیکا کے کچھ حصے شامل ہیں۔
تحقیق میں برف کے اس مقام کی بھی تفصیلی نقشہ سازی کی گئی جسے گراؤنڈنگ لائن کہا جاتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں برف زمین سے الگ ہو کر سمندر پر تیرنا شروع کرتی ہے اور اسے برفانی شیٹ کے استحکام کی پیمائش کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مثبت پہلو یہ ہے کہ انٹارکٹیکا کے تقریباً 77 فیصد ساحلی حصے میں گراؤنڈنگ لائن اپنی جگہ برقرار ہے، تاہم کمزور علاقوں میں برف تیزی سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور ہر سال تقریباً 170 مربع میل برفانی پرت ختم ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا کی تیزی سے پگھلتی برف کا سمندروں پر کتنا خوفناک اثر پڑ سکتا ہے؟
تحقیق کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، اروائن کے پروفیسر ایرک رگنو کے مطابق جہاں تیز ہوائیں گرم سمندری پانی کو گلیشیئرز تک پہنچاتی ہیں وہاں انٹارکٹیکا میں بڑے پیمانے پر برف پگھلنے کے آثار نظر آتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی انٹارکٹیکا میں گرم سمندری پانی برف کے نیچے داخل ہو کر اسے نیچے سے پگھلا رہا ہے، تاہم انٹارکٹیکا جزیرہ نما میں برف کے پیچھے ہٹنے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔
سائنس دانوں کے مطابق انٹارکٹیکا سمندری سطح میں اضافے کا ایک بڑا سبب بن رہا ہے۔ تھوائٹس گلیشیئر جسے ڈومزڈے گیلیشیئر بھی کہا جاتا ہے، پہلے ہی عالمی سطح پر سمندری سطح میں اضافے کے تقریباً 4 فیصد حصے کا ذمہ دار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گرین لینڈ کی برف کی تہہ پگھلے ہوئے چٹان کی طرح حرکت کرتی ہے، سائنسدانوں کا انکشاف
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی انٹارکٹیکا کی برفانی شیٹ مکمل طور پر منہدم ہو گئی تو دنیا بھر میں سمندری سطح میں تقریباً 9 فٹ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔














