چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور وہاں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی۔
مزید پڑھیں: اسلامی فوجی انسداد دہشتگردی اتحاد کے سیکریٹری جنرل کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات
آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال کی سنگینی پر بات کی اور اس ضمن میں حکمت عملی کے تحت مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
Chief of Army Staff & Chief of Defense Forces, Field Marshal Syed Asim Munir visited KSA and met with HRH Prince Khalid Bin Salman, the Defense Minister of Kingdom. @AmirSaeedAbbasi @Aadiiroy2 pic.twitter.com/GloXK3vsiB
— Media Talk (@mediatalk922) March 7, 2026
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بغیر کسی اشتعال کے حملے، خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور تنازعات کے پرامن حل کے امکانات کو کمزور کرتے ہیں۔
ملاقات میں امید ظاہر کی گئی کہ برادر ملک ایران سمجھداری اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرے گا تاکہ کسی غلط فہمی سے بچا جا سکے اور وہ ممالک جو بحران کے پرامن حل کے خواہاں ہیں، ان کے اقدامات کو مضبوط بنایا جا سکے۔
پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے
واضح رہے کہ پاکستان ہمیشہ سے مسلم دنیا میں اپنی اسٹریٹجک شراکت داریوں، بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جبکہ ایک اہم ہمسایہ ملک کے طور پر ایران کے ساتھ دیرینہ اور باوقار تعلقات بھی برقرار رکھتا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے درمیان ملاقات پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس نوعیت کی ملاقاتیں ایک مضبوط اور دیرینہ دفاعی شراکت داری کا حصہ ہیں جن کا مقصد خلیج میں استحکام کو یقینی بنانا اور وسیع تر خطے کے سیکیورٹی نظام کو محفوظ بنانا ہے۔
پاکستان سعودی سرزمین پر حالیہ ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کو انتہائی تشویش کے ساتھ دیکھتا ہے، کسی بھی بلااشتعال طاقت کے استعمال سے پہلے ہی نازک سیکیورٹی صورتحال مزید غیر مستحکم ہو سکتی ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
پاکستان برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے اور توقع کرتا ہے کہ ایران اپنے دفاع کے تناظر میں بھی دانشمندی اور احتیاط کا مظاہرہ کرے گا۔
پاکستان کی سول اور عسکری سفارت کاری کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہے
پاکستان کی سول اور عسکری سفارت کاری کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ جیسا کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی نشاندہی کی ہے، پاکستان نے حالیہ عرصے میں ریاض اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں خاموش مگر مؤثر کردار ادا کیا ہے اور ہر ایسی قابلِ اعتماد کوشش کی حمایت جاری رکھے گا جو تصادم کو روکنے میں مدد دے۔
ریاض میں ہونے والی یہ ملاقات دراصل ذمہ دار علاقائی قوتوں کی جانب سے سیکیورٹی صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی مربوط کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون اس مؤقف کے ساتھ ہم آہنگ ہے کہ مکالمہ، تحمل اور ذمہ دار ریاستی طرزِ عمل ہی پائیدار استحکام کا راستہ ہیں۔
پاکستان توقع کرتا ہے کہ تمام فریق دانشمندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ بڑے علاقائی ممالک کے درمیان کشیدگی نہ صرف خلیج کی سلامتی کو متاثر کرے گی بلکہ توانائی کی ترسیل، تجارتی راستوں اور خطے کے کروڑوں لوگوں کے معاشی مفادات کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
اسلام آباد سفارتی روابط اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا، جبکہ ایسے اقدامات کے خلاف واضح موقف رکھے گا جو امن کو نقصان پہنچائیں یا خودمختار ریاستوں کے لیے خطرہ بنیں۔













