افغانستان میں سیاسی، انسانی اور سیکیورٹی بحران بدستور سنگین ہوتا جا رہا ہے کیونکہ طالبان حکومت مؤثر انداز میں انتظام چلانے میں ناکام ہے۔
افغانستان کے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کے لیے خارجہ تعلقات کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے علی میثم نظری نے بی بی سی ورلڈ نیوز سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان اگست 2021 سے ایک دہشتگرد تنظیم کے قبضے میں ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، انسانی اور سیکیورٹی بحران بدتر ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں شہری ہلاکتوں سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ متوازن نہیں، پاکستان نے اعتراض اٹھا دیا
انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان ایک بار پھر علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن چکا ہے، جہاں قریباً 21 گروپ سرگرم ہیں جو خطے اور عالمی سطح پر براہِ راست خطرہ ہیں۔
نظری نے طالبان کی حکومتی صلاحیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل طور پر نااہل ہیں اور ملک میں قانون و انتظام کا فقدان ہے، فی الوقت بنیادی طور پر ملک میں انارکی کی صورتحال ہے۔
جب ایران میں حالیہ عوامی احتجاجات کے مقابلے میں افغانستان میں بڑے پیمانے پر بغاوت نہ ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو نظری نے کہا کہ افغانستان کی تاریخی اور سماجی صورتحال مختلف ہے اور عوام روایتی طور پر قلیل وقت میں حکمرانوں کے خلاف نہیں اٹھتے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف)، جو بنیادی طور پر پنج شیر و دیگر شمالی علاقوں میں فعال ہے، گزشتہ سال کے دوران اپنی وسعت بڑھانے میں کامیاب رہی، جو ظاہر کرتا ہے کہ عوام کو یقین ہے کہ دہشتگرد گروپ کے خلاف مزاحمت ہی ملک کے لیے حل ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان کے ساتھ جنگ کو جہاد سمجھتے ہیں، پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے: علامہ طاہر اشرفی
این آر ایف کی بنیاد سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں اور سیاسی رہنماؤں نے رکھی، جو طالبان کے اقتدار کے مخالف ہیں اور یہ ملک میں فعال مزاحمت کرنے والی چند منظم قوتوں میں سے ایک ہے۔
نظری نے کہا کہ این آر ایف اہم فوجی اور لاجسٹک مشکلات کے باوجود سرگرم ہے، جس سے افغانستان میں جاری بے چینی اور حکومت کی نازک صورتحال کا پتا چلتا ہے۔














