اقوام متحدہ کے افغانستان میں مشن (یوناما) کی جانب سے جاری حالیہ رپورٹ میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے دوران شہری ہلاکتوں کا ذکر کیے جانے کے بعد پاکستان نے رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں زیادہ تر معلومات افغان طالبان حکام سے حاصل کی گئی ہیں اور یہ مکمل طور پر آزاد اور مصدقہ شواہد کی عکاسی نہیں کرتی۔
Update on civilian casualties in #Afghanistan. pic.twitter.com/rIdh6m5hBu
— UNAMA News (@UNAMAnews) March 6, 2026
پاکستانی حکام نے اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یوناما کی رپورٹ میں زیادہ تر معلومات افغان طالبان حکام کی فراہم کردہ ہیں اور اس میں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ معلومات کی کمی نظر آتی ہے جس سے بعض نتائج کی درستگی اور توازن پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین مختلف دہشتگرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے اور انہی عناصر کی جانب سے پاکستان میں متعدد دہشت گرد حملے کیے گئے ہیں جن میں بے گناہ شہری اور سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ حکام کے مطابق پاکستان نے مسئلے کے حل کے لیے دوست ممالک کی ثالثی میں کئی کوششیں کیں لیکن خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان کے کن علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں؟
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس کی سکیورٹی فورسز کی تمام انسداد دہشتگردی کارروائیاں انتہائی درست انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جاتی ہیں اور ان کا مقصد صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں اور ہدف صرف دور دراز دہشت گرد ٹھکانے ہوتے ہیں۔
پاکستانی حکام نے مزید کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے بعض دہشت گرد عناصر کو تحفظ ملنے پر شدید تشویش ہے اور یہی عناصر خطے کے امن اور پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ یوناما آئندہ اپنی رپورٹس میں تمام واقعات، بشمول پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں، کو بھی اسی سنجیدگی اور غیر جانبداری سے شامل کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی ایم، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے عناصر نے پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا کا استعمال کیا، کتاب میں انکشافات
پاکستان نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خلاف مؤثر اور ذمہ دارانہ اقدامات جاری رکھے گا تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔














