جنوبی لبنان کے ایک بزرگ شہری کی زندگی گزشتہ 4 دہائیوں سے جنگ، نقل مکانی اور دوبارہ تعمیر کے چکر میں گزر رہی ہے۔ انہوں نے کئی بار اپنا گھر بنایا، مگر ہر نئی لڑائی انہیں پھر سے بے گھر کر دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان: اسرائیلی فضائی حملے میں 6 افراد جاں بحق، حزب اللہ ٹھکانے بھی نشانے پر
جنوبی لبنان کے سرحدی قصبے خیام کے رہنے والے 66 سالہ حسین خریس چند دن پہلے تک فخر سے اپنے نئے تعمیر شدہ گھر کی تصاویر دکھا رہے تھے۔ یہ وہی گھر تھا جسے انہوں نے پچھلی جنگ میں تباہ ہونے کے بعد بڑی محنت اور تقریباً 25 ہزار ڈالر خرچ کر کے دوبارہ بنایا تھا۔ مگر خوشی کے وہ دن زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے۔
گزشتہ ہفتے اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد ایک بار پھر لڑائی بھڑک اٹھی اور حسین خریس کو اپنا شہر چھوڑ کر خاندان سمیت بیروت کے قریب رشتہ داروں کے گھر پناہ لینا پڑی۔
اب وہ ایک کمرے میں تقریباً 20 رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہے ہیں اور مسلسل ٹی وی پر اپنے شہر کی خبریں دیکھتے رہتے ہیں۔

حسین خریس کہتے ہیں کہ انہیں نہیں معلوم کہ جس گھر کو انہوں نے اتنی محنت سے دوبارہ بنایا تھا، وہ اب بھی موجود ہے یا ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ ان کے بقول یہ احساس بہت تکلیف دہ ہے کیونکہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے گھر واپس جا سکیں گے یا نہیں۔
یہ پہلی بار نہیں کہ انہیں اپنا گھر چھوڑنا پڑا ہو۔ گزشتہ 40 برسوں میں وہ کم از کم 4 مرتبہ جنگ کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں۔ ہر بار وہ اپنے تباہ حال قصبے میں واپس آئے، ملبہ ہٹایا اور صبر کے ساتھ دوبارہ گھر تعمیر کیا۔
وہ کہتے ہیں میری زندگی گویا ایک ہی دائرے میں گھومتی رہی ہے۔ پہلے نقل مکانی، پھر واپسی، پھر تعمیر ۔۔۔ اور پھر دوبارہ نقل مکانی۔ آخر یہ کیسی زندگی ہے؟
یہ بھی پڑھیں:لبنانی سرحد کے قریب حملے میں 8 اسرائیلی فوجی زخمی، 5 کی حالت نازک
2024 کی جنگ کے بعد جب انہوں نے گھر کی مرمت شروع کی تو انہیں امید تھی کہ شاید اب سکون کے دن آئیں گے، مگر نئی لڑائی نے ان کی امیدوں کو ایک بار پھر غیر یقینی بنا دیا۔
لبنان میں بہت سے خاندانوں نے پچھلی جنگ میں تباہ ہونے والے اپنے گھروں کو اپنی ذاتی جمع پونجی سے دوبارہ تعمیر کیا، کیونکہ سرکاری مدد نہ ہونے کے برابر تھی۔ لیکن 2019 کے مالیاتی بحران کے بعد لوگوں کے لیے اپنے ہی بینکوں سے پیسے نکالنا بھی آسان نہیں رہا۔
ادھر حالیہ لڑائی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اسرائیلی حملوں اور فوجی انخلا کے احکامات کے باعث صرف ایک ہفتے میں تقریباً 3 لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔

بیروت میں بیٹھے حسین خریس کہتے ہیں کہ یہاں گزارے گئے 4 دن انہیں 400 سال جیسے محسوس ہو رہے ہیں۔ وہ اپنے گھر کو بہت یاد کرتے ہیں، خاص طور پر وہ لمحہ جب وہ اپنے بچوں کے کمروں کا دروازہ کھولتے اور دیواروں پر لگے اپنے پوتے پوتیوں کی تصاویر دیکھتے تھے۔
ان کے بقول وہ منظر دنیا کے تمام خزانوں سے زیادہ قیمتی ہے، جب میں خیام میں اپنے پوتے پوتیوں کی تصویریں دیکھتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان میں اسرائیل کا فضائی حملہ، حزب اللہ کمانڈر سمیت 12 افراد جاں بحق
حسین خریس کو ابھی تک اپنے گھر کی حالت کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ گھر بھی تباہ ہو گیا تو شاید وہ پھر وہی کریں گے جو ہمیشہ کرتے آئے ہیں، ملبہ ہٹائیں گے اور ایک بار پھر نیا گھر بنانے کی کوشش کریں گے۔













