آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل تنصیبات پر حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک شدید اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم جی 7 ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے کے عندیے کے بعد قیمتیں تیزی سے نیچے آنا شروع ہوگئیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنگِ ایران کے باعث خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں
پیر کے روز کاروبار کے دوران برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت بڑھ کر 119.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی بھی تقریباً 119.48 ڈالر فی بیرل کی سطح تک جا پہنچا، جو حالیہ برسوں کی نمایاں بلند ترین سطحوں میں شمار کی گئی۔ عالمی منڈی میں یہ اضافہ ایک ہی دن میں تقریباً 30 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق خلیج فارس میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش نے سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کیے، جس کے باعث تاجروں اور سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھی اور قیمتیں تیزی سے اوپر چلی گئیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی رسد کی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور بڑی مقدار میں قدرتی گیس روزانہ گزرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں ہلچل، خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر
صورتحال کے پیش نظر جی 7 ممالک متحرک ہوگئے اور فرانس کی زیر صدارت وزرائے خزانہ کا ہنگامی ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جس میں عالمی منڈی کو مستحکم کرنے کے لیے تیل کے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور آئی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اختیار کیے جائیں گے۔
فرانسیسی وزیر خزانہ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ذخائر جاری کرنے کا امکان موجود ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ یورپ اور امریکا میں فی الحال ایندھن کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی۔
عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے اجلاس کو بتایا کہ رکن ممالک کے پاس ہنگامی استعمال کے لیے 1.2 ارب بیرل سے زائد سرکاری ذخائر موجود ہیں، اس کے علاوہ تقریباً 600 ملین بیرل صنعتی ذخائر بھی حکومتی نگرانی میں دستیاب ہیں۔ اس سے پہلے یہ ذخائر 2022 میں روس یوکرین جنگ کے بعد عالمی منڈی کو سہارا دینے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک-امریکا تعلقات میں نئے دور کا آغاز، خام تیل سے بھرا پہلا جہاز آج پاکستان پہنچ گیا
جی 7 ممالک کے ممکنہ اقدام کے اشارے سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی کا رجحان بدل گیا اور قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ خام تیل جو 119.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا کم ہو کر تقریباً 98.69 ڈالر فی بیرل رہ گیا، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بھی کم ہو کر 95.65 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر نہ آئی تو عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے، تاہم بڑے ممالک کے ذخائر استعمال کرنے کے امکانات نے فوری طور پر منڈی کو سہارا فراہم کیا ہے۔














