وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز کابینہ اجلاس میں کفایت شعاری کے لیے اہم فیصلوں کا اعلان کیا جن کے تحت سرکاری گاڑیوں کے فیول میں 50 فیصد کٹوتی کی جائے گی، آئندہ 2 ماہ تک کابینہ کے ارکان، وفاقی وزرا، مشیران اور معاونینِ خصوصی تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی جارہی ہے۔
اس کے علاوہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے ایسے افسران جن کی تنخواہ 3 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، ان کی 2 دن کی تنخواہ کاٹی جائے گی جو عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: ملک بھر میں ’کفایت شعاری اور ایندھن بچاؤ‘ اقدامات کے فوری نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری
وزیراعظم کے ان اعلانات سے لگ تو ایسے رہا تھا کہ ان اقدامات سے قومی خزانے کو بڑی بچت ہوگی اور عوام کے لیے بڑا ریلیف ہوگا البتہ تنخواہوں اور اخراجات کا اگر حساب کیا جائے تو ان تمام اقدامات سے مجموعی طور پر صرف 2 ارب 61 کروڑ 14 لاکھ اور 94 ہزار روپے تک کی بچت ہو سکے گی، جبکہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک ماہ میں 83 کروڑ لیٹر پیٹرول اور 67 کروڑ لیٹر ڈیزل کا استعمال ہوتا ہے، یہ یومیہ 5 کروڑ لیٹر بنتا ہے، اگر اس میں 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا جائے تو عوام پر یومیہ 2 ارب 75 کروڑ روپے اور ماہانہ 82 ارب 50 کروڑ روپے کا بوجھ پڑتا ہے۔
وفاقی کابینہ ارکان کی 2 ماہ کی تنخواہ، ارکان قومی اسمبلی، سینیٹ، پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی، گریڈ 20 سے 22 تک کے افسران کی دو دن کی تنخواہوں، وزیراعظم کی دو ماہ کی تنخواہ سے صرف 26 کروڑ 14 لاکھ روپے کی بچت ہوگی جبکہ پنجاب اور وفاق کی سرکاری گاڑیوں کے فیول میں 50 فیصد کٹوتی سے 2 ارب 35 کروڑ روپے تک کی بچت ہو سکے گی۔
وفاقی وزرا کی تنخواہوں سے بچت
وفاقی وزرا کی ماہانہ تنخواہ 5 لاکھ 19 ہزار روپے کر دی گئی تھی، اس وقت وفاقی کابینہ کے کل ارکان کی تعداد 50 کے قریب ہے اور اگر یہ 50 اراکین اپنی دو ماہ کی تنخواہ نہ لیں تو قومی خزانے کو 5 کروڑ 19 لاکھ روپے کی بچت ہو سکے گی۔
وزیراعظم کی 2 ماہ کی تنخواہ سے بچت
وزیر اعظم کی سیلری سلپ کے مطابق ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ 96 ہزار 979 روپے تنخواہ دی جاتی ہے، اگر وزیراعظم اپنی 2 ماہ کی تنخواہ نہ لیں تو اس سے قومی خزانے کو 3 لاکھ 92 ہزار روپے کی بچت ہوگی۔
اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ کی تنخواہ سے بچت
اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کی ہے اراکین قومی اسمبلی اور سینٹ کی ماہانہ تنخواہ 7 لاکھ 5 ہزار روپے ہے، اور ان ارکان کی مجموعی تعداد 432 ہے اگر ان ارکان کی ماہانہ تنخواہ میں 25 فیصد کٹوتی کی جائے تو اس سے مجموعی طور پر 15 کروڑ 22 لاکھ 80 ہزار روپے کی بچت کی جا سکتی ہے۔
صوبائی وزرا کی تنخواہ
پنجاب کے صوبائی وزرا کی تنخواہ 4 لاکھ 85 ہزار روپے ہے اور ان ارکان کی کل تعداد 19 ہے اگر یہ ارکان اپنی مجموعی تنخواہ 2 ماہ تک وصول نہ کریں تو اس سے قومی خزانے کو ایک کروڑ 94 لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔
سرکاری افسران کی 2 دن کی تنخواہ
گریڈ 22 کے وفاقی سیکرٹری کی ماہانہ تنخواہ 5 لاکھ 91 ہزار 475 روپے ہے اور ان ارکان کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 90 ہے اسی طرح گریٹ 21 کے افسران تنخواہ ساڑھے 4 لاکھ روپے ہے اور ان کی مجموعی تعداد تقریباً 390 ہے اسی طرح گریڈ 20 کے افسران کی اوسط تنخواہ 3 لاکھ روپے سے زائد ہے اور ان افسران کی مجموعی تعداد ایک 120 ہے اگر یہ تمام افسران اپنے دو دن کی تنخواہ وصول نہ کریں تو اس سے قومی خزانے کو 3 کروڑ 76 لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔
پنجاب اور وفاقی سرکاری گاڑیوں کے فیول میں 50 فیصد کٹوتی
پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول پر ہر سال اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ دستیاب اندازوں کے مطابق پنجاب حکومت اس مد میں سب سے زیادہ اخراجات کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: حکومت کے کفایت شعاری اقدامات کتنے مؤثر، معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟
وفاقی حکومت کے مختلف اداروں اور وزارتوں کے زیر استعمال تقریباً 12 سے 15 ہزار گاڑیاں ہیں جن کے پیٹرول پر سالانہ تقریباً 9 ارب روپے اور ماہانہ 75 کروڑ روپے خرچ کیے جاتے ہیں، اگر 2 ماہ کے لیے گاڑیوں پرخرچ ہونے والے پیٹرول پر 50 فیصد کٹوتی کی جائے تو اس طرح دو ماہ میں 75 کروڑ روپے کی بچت کی جا سکتی ہے۔ پنجاب حکومت کے زیر استعمال تقریباً 30 ہزار سرکاری گاڑیاں ہیں جن پر سالانہ تقریباً 20 ارب روپے اور ماہانہ ایک ارب 60 کروڑ روپے کا پیٹرول خرچ ہوتا ہے، اگر 2 ماہ کے لیے گاڑیوں پر خرچ ہونے والے پیٹرول پر 50 فیصد کٹوتی کی جائے تو 2 ماہ میں ایک ارب 60 کروڑ روپے کی بچت کی جا سکتی ہے۔
اس طرح پنجاب اور وفاقی میں سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کٹوتی کر کہ 2 ارب 35 کروڑ روپے کی بچت ہو سکے گی۔














