چھوٹی اور درمیانی صنعتیں: پاکستان کی برآمدات کی بڑی طاقت

منگل 10 مارچ 2026
author image

راحیل نواز سواتی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بڑی صنعتیں، بڑے منصوبے اور غیر ملکی سرمایہ کاری یقیناَ ملکی معیشت میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں، دوسری جانب چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار یعنی ایس ایم ایز (SMEs) وہ شعبہ ہے جو نہ صرف لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے، بلکہ صنعت، تجارت اور برآمدات کے کئی اہم شعبوں کو بھی متحرک رکھتا ہے۔

چھوٹے اور درمیانے کاروبار محدود سرمایہ اور کم وسائل سے ملکی پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں، مثلاً شہد پیدا کرنے والے چھوٹے فارم، زیتون کے تیل کی فیکٹریاں، ہینڈی کرافٹس بنانے والے یونٹس یا فوڈ پروسیسنگ کے کاروبار اسی زمرے میں آتے ہیں۔

پاکستان میں کاروباروں کی تقریباً 90 فیصد تعداد اسی شعبے سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ معیشت میں ان کا حصہ تقریباً 40 فیصد کے قریب سمجھا جاتا ہے، اس کے علاوہ غیر زرعی شعبوں میں روزگار کے تقریباً 80 فیصد مواقع بھی یہی کاروبار فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان میں ایس ایم ایز کی ایک بڑی خصوصیت صنعتی کلسٹرز کی شکل میں ان کی موجودگی ہے۔ کلسٹر سے مراد ایک ہی نوعیت کے کاروباروں کا کسی مخصوص علاقے میں اکٹھا ہونا ہے۔

مثلاً سیالکوٹ اسپورٹس گڈز اور سرجیکل آلات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، فیصل آباد ٹیکسٹائل صنعت کا بڑا مرکز ہے، گجرات میں الیکٹرک پنکھوں کی صنعت موجود ہے، جبکہ چنیوٹ ہاتھ سے بنے لکڑی کے فرنیچر کے لیے معروف ہے۔

اسی طرح سوات اور چکوال میں شہد کی پیداوار جبکہ پوٹھوہار کے علاقے میں زیتون کی کاشت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہ کلسٹرز دراصل مقامی مہارت، وسائل اور کاروباری تجربے کا نتیجہ ہیں۔

ایس ایم ای کلسٹرز پاکستان کی برآمدات میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سیالکوٹ کی اسپورٹس گڈز انڈسٹری نے عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت بنائی ہے اور فٹبال ورلڈ کپ کے لیے بھی یہاں فٹبال تیار کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح سرجیکل آلات، لیدر مصنوعات اور ہاتھ سے بنے قالین بھی عالمی منڈیوں میں پاکستان کی نمایاں برآمدات میں شامل ہیں۔

اگرچہ مجموعی طور پر پاکستان کی برآمدات میں ایس ایم ایز کا حصہ تقریباً 25 سے 30 فیصد کے درمیان سمجھا جاتا ہے، تاہم ان میں مزید اضافے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔

اس کے باوجود ایس ایم ای سیکٹر کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ بینک فنانسنگ تک محدود رسائی ہے۔ بہت سے چھوٹے کاروبار غیر رسمی معیشت کا حصہ ہونے کی وجہ سے بینکوں سے قرض حاصل نہیں کر پاتے۔

اسی طرح جدید ٹیکنالوجی اور مشینری تک رسائی کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کے باعث پیداوار اور معیار دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی مارکیٹ تک براہ راست رسائی، موثر برانڈنگ اور معیاری پیکجنگ کا فقدان بھی ان کاروباروں کی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔

دنیا کے کئی ممالک نے اسی شعبے کو مضبوط بنا کر اپنی معیشت کو ترقی دی ہے۔ جرمنی کا مِٹل اسٹینڈ ماڈل، ترکی کی برآمدات پر مبنی ایس ایم ای حکمت عملی اور چین کا صنعتی کلسٹر ماڈل اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔

ان ممالک نے چھوٹے کاروباروں کو ٹیکنالوجی، آسان قرضوں اور عالمی مارکیٹ تک رسائی فراہم کر کے انہیں قومی معیشت کا مضبوط ستون بنا دیا ہے۔

پاکستان میں بھی اگر ایس ایم ای کلسٹرز کو مؤثر پالیسی، فنانسنگ، ٹیکنالوجی اور برآمدی سہولتیں فراہم کی جائیں تو یہ شعبہ معیشت کے لیے ایک نئی قوت بن سکتا ہے۔

خصوصاً زیتون، شہد، کھجور، آم اور مرچ جیسی زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن کے ذریعے اربوں ڈالر کی برآمدات پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

مثال کے طور پر پنجگور اور خیرپور میں پیدا ہونے والی کھجور اگر جدید پراسیسنگ اور برانڈنگ کے ساتھ عالمی مارکیٹ تک پہنچے تو پاکستان اس شعبے میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔

اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ اس پر مؤثر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے۔ اگر چھوٹے کاروباروں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، جدید تربیت اور مالی سہولتیں فراہم کی جائیں تو نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے، بلکہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا راستہ صرف بڑے صنعتی منصوبوں سے نہیں، بلکہ انہی چھوٹے اور درمیانے کاروباروں سے ہو کر گزرتا ہے، جو ملک کے مختلف علاقوں میں خاموشی سے معیشت کا پہیہ چلا رہے ہیں۔

اگر اس شعبے کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لایا جائے تو یہ پاکستان کی معیشت کو پائیدار اور وسیع بنیادوں پر ترقی دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پشاور زلمی کے اشتراک سے پی ایس ایل میں پہلی بار پشتو کمنٹری متعارف

عالمی فوجی اخراجات 2025 میں بڑھ کر 2887 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

آبنائے ہرمز پر ایران کی اجارہ داری قبول نہیں کریں گے، امریکی وزیر خارجہ

پاکستان کا علاقائی امن کے لیے فعال سفارتکاری جاری رکھنے کا اعلان

قومی احتساب بیورو میں بڑے پیمانے پر تبادلے، ڈائریکٹر عمران سہیل کی اسلام آباد تعیناتی

ویڈیو

پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے

خیبرپختونخوا حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی، وفاق کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے چاہییں، سابق گورنر حاجی غلام علی

کیا ایران امریکا مذاکرات بحال ہوں گے؟پاکستانی شہری کیا سوچتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

ٹرمپ کا بلف

ایران، امریکا مذاکرات: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟

مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟