بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے ایک پراسیکیوٹر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں زیرِ حراست ایک سابق رکنِ پارلیمنٹ کی ضمانت کروانے کے لیے ایک کروڑ ٹکا رشوت طلب کی۔ یہ انکشاف بنگلہ دیشی میڈیا اداروں کی ایک تحقیقی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
یہ تحقیقاتی رپورٹ پروتھوم آلو اور نیٹرا نیوز نے مشترکہ طور پر شائع کی، جس کے مطابق واٹس ایپ گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگز میں پراسیکیوٹر سائموم رضا تلوکدار کو سابق عوامی لیگ کے رکنِ پارلیمنٹ اے بی ایم فضل کریم چوہدری کے اہلِ خانہ سے پیسے مانگتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کے ترقیاتی منصوبوں میں جاپان کے تعاون کا اعادہ
رپورٹ کے مطابق چٹاگانگ-6 سے 5 مرتبہ رکنِ پارلیمنٹ رہنے والے فضل کریم چوہدری ستمبر 2024 سے حراست میں ہیں۔ ان پر جولائی 2024 میں امتیازی سلوک کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، اور یہ مقدمہ انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل میں انسانیت کے خلاف جرائم کے تحت زیرِ سماعت ہے۔
رپورٹ میں شامل آڈیو ریکارڈنگز کے مطابق پراسیکیوٹر نے اہلِ خانہ کو بتایا کہ اگر وہ ضمانت کا بندوبست کرا دیں تو انہیں ‘ایک کروڑ ٹکا’ درکار ہوں گے، جبکہ انہوں نے تقریباً 10 لاکھ ٹکا پیشگی نقد ادائیگی بھی طلب کی۔
فضل کریم چوہدری کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی رقم ادا نہیں کی بلکہ مبینہ بدعنوانی کے ثبوت اکٹھے کرنے کے لیے پراسیکیوٹر سے گفتگو جاری رکھی۔ بعد ازاں انہوں نے کچھ ریکارڈنگز بنگلہ دیش کے وزیرِ قانون کو بھی فراہم کر دیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کی پولیس میں بڑے پیمانے پر ردوبدل، 5 ایڈیشنل آئی جیز کو ریٹائر کر دیا گیا
رپورٹ کے مطابق الزامات سامنے آنے کے بعد اس وقت کے چیف پراسیکیوٹر نے تلوکدار کو اس مخصوص کیس سے ہٹا دیا تھا، تاہم وہ ٹریبونل میں دیگر ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ فروری 2026 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد حکومت کی تبدیلی کے بعد مبینہ طور پر انہوں نے دوبارہ خاندان سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ کیس میں واپس آ کر ضمانت میں مدد کر سکتے ہیں۔
پراسیکیوٹر صائم رضا تلوکدار نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے خلاف سازش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ایک پراسیکیوٹر اکیلے ضمانت کا انتظام نہیں کر سکتا اور ٹریبونل کے فیصلے اجتماعی طور پر کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا استعفیٰ ان الزامات سے متعلق نہیں تھا اور وہ دوبارہ اپنی سابقہ پیشہ ورانہ زندگی یعنی جامعہ میں تدریس کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیشی فورسز کا چٹگرام کے جنگل میں مشترکہ آپریشن، داخلی و خارجی راستے سیل
رپورٹ کے مطابق موجودہ چیف پراسیکیوٹر نے رشوت کے الزامات سے لاعلمی ظاہر کی، جبکہ وزیرِ قانون نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل ابتدا میں 1971 کی جنگ کے دوران ہونے والے جرائم کی سماعت کے لیے قائم کیا گیا تھا، تاہم اس وقت یہ 2024 کے سیاسی احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد سے متعلق مقدمات بھی سن رہا ہے۔














