پشاور شہر میں رات کے وقت چڑیل کے گشت کی افواہ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جس کے بعد مقامی افراد نے باقاعدہ پہرہ دینا شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ بوٹ سے محبت: خاتون کو مشینی محبوب کی رخصتی کا خوف
پشاور پولیس کے مطابق تھانہ شاہ قبول کی حدود، مومند آباد میں واقع بیجو قبر قبرستان میں رات کے وقت چڑیل کے گھومنے کی افواہ پھیل گئی۔ جس کے بعد سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپوں میں تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر ہونے لگیں۔
پولیس نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر لوگوں نے عجیب و غریب ویڈیوز بنا کر شیئر کیں اور چڑیل دیکھنے کا دعویٰ کرتے رہے جس سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا۔
مقامی افراد نے رات کو پہرہ داری شروع کر دی
رات کے وقت چڑیل کے گھومنے کی افواہوں کے بعد مقامی افراد نے باقاعدہ پہرہ دینا شروع کر دیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ ٹولیوں کی شکل میں چڑیل کی تلاش کرتے رہے۔ مقامی افراد رات کے وقت بیجو قبرستان کے مین گیٹ کے سامنے جمع ہو کر قبرستان کی حدود میں داخل ہونے کی بھی کوشش کرتے رہے لیکن گیٹ بند ہونے کی وجہ سے اندر نہیں جا سکے۔
مزید پڑھیے: ’جسے اللہ رکھے۔۔۔‘: گول گپوں میں زہر، گلا گھونٹنا بھی محبوبہ کو راہ سے نہ ہٹاسکا
بیجو قبر کے مین گیٹ کے سامنے ریکارڈ ایک ویڈیو میں ایک شخص دعویٰ کر رہا تھا کہ چڑیل قبرستان کی حدود میں موجود ہے اور کئی لوگوں نے اسے دیکھا ہے۔ اس نے کہا کہ لڑکی کے روپ میں خوفناک چڑیل کو کئی لوگوں نے خود دیکھا ہے۔
معاملہ کیا نکلا؟
پیر کی رات بھی بڑی تعداد میں لوگ نکلے اور چڑیل کی تلاش کرتے رہے۔
پولیس نے بتایا کہ مقامی افراد نے ایک لڑکی کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا اور اسے چڑیل قرار دیا اور الزام لگایا کہ اس چڑیل نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا تھا۔
شاہ قبول پولیس نے بتایا کہ علاقہ مکینوں نے 13 سالہ لڑکی کو چڑیل سمجھ کر پولیس کے حوالے کیا۔
مزید تفتیش سے معلوم ہوا کہ لڑکی کوئی چڑیل نہیں بلکہ علاقے کی رہائشی ایک 13 سالہ لڑکی تھی جو چند دنوں سے گھر سے غائب تھی۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکی کی ذہنی صحت درست نہیں تھی۔ متاثرہ لڑکی کی شناخت پولیس نے مہویش کے نام سے کی ہے جو چند دنوں سے گھر سے لاپتا تھی جبکہ پولیس کو باقاعدہ گمشدگی کی رپورٹ بھی ملی تھی۔
پولیس نے بتایا کہ چڑیل کی افواہوں کے بعد علاقہ مکینوں نے رات کے وقت لڑکی کو ادھر اُدھر گھومتے دیکھ کر چڑیل سمجھ لیا تھا اور اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ بتایا گیا کہ لڑکی کی شناخت مکمل ہونے کے بعد اسے والدین کے حوالے کر دیا گیا۔
افواہوں پر کان نہ دھریں، پولیس
سوشل میڈیا پر مبینہ چڑیل سے متعلق وائرل ہونے والی ویڈیوز کو پولیس نے افواہ قرار دیا اور کہا کہ اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
پولیس کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ بعض عناصر کی جانب سے بے بنیاد اور من گھڑت ویڈیوز شیئر کر کے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
مزید پڑھیں: بیڈروم کی دیوار نے ڈارک ویب کے جال میں پھنسی لڑکی کو کیسے بچایا؟
عوام سے اپیل کی گئی کہ ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ایسی غیر مصدقہ اور گمراہ کن خبروں پر ہرگز یقین نہ کریں۔ پولیس نے شہریوں سے یہ بھی اپیل کی کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے میں پشاور پولیس اور دیگر انتظامی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔














