رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی روح پرور ساعتوں کے اختتام پر جب عیدالفطر کی خوشیاں دستک دیتی ہیں تو گھروں، گلیوں اور بازاروں میں ایک نئی رونق جاگ اٹھتی ہے۔ یہ صرف عبادت کے مہینے کے اختتام کی خوشی نہیں بلکہ شکرانے، محبت اور مہمان نوازی کے اظہار کا خوبصورت موقع بھی ہوتا ہے۔ بلوچستان میں عیدالفطر کی آمد کے ساتھ ہی مختلف ثقافتوں کے رنگ اور روایتی پکوانوں کی خوشبو فضا میں گھل جاتی ہے اور دسترخوان مہمانوں کے استقبال کے لیے سجنے لگتے ہیں۔
بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جہاں مختلف قومیتیں اور ثقافتیں ایک ساتھ پروان چڑھتی ہیں۔ یہاں پشتون، بلوچ، ہزارہ اور پنجابی برادریاں اپنی اپنی روایات اور ذائقوں کے ساتھ عیدالفطر کی خوشیوں کو منفرد انداز میں مناتی ہیں۔ ہر گھر میں تیار ہونے والے پکوان نہ صرف ذائقے میں منفرد ہوتے ہیں بلکہ اس خطے کی تہذیبی خوبصورتی کی جھلک بھی پیش کرتے ہیں۔
عید کی صبح نمازِ عید کی ادائیگی کے بعد گھروں میں سب سے پہلے میٹھے پکوانوں سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی ہے۔ بلوچستان کے شہری علاقوں میں شیر خرما عید کے دسترخوان کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ دودھ، سویاں اور خشک میوہ جات سے تیار ہونے والا یہ میٹھا پکوان گویا عید کی مٹھاس کو زبان پر گھول دیتا ہے۔ اسی طرح فرنی اور کھیر بھی کئی گھروں میں عید کی صبح کی پہچان سمجھی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے عیدالفطر پر بلوچستان کے کون سے سیاحتی مقامات کی سیر کی جاسکتی ہے؟
بلوچ برادری کے گھروں میں عیدالفطر کے موقع پر سجی کی خوشبو دسترخوان کو خاص بنا دیتی ہے۔ روایتی انداز میں تیار کی جانے والی سجی، روش اور مقامی پلاؤ مہمانوں کی تواضع کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ ان پکوانوں کے ساتھ بلوچ ثقافت کی سادگی اور مہمان نوازی کی روایت بھی نمایاں نظر آتی ہے۔
پشتون خاندانوں میں عید کے موقع پر کابلی پلاؤ، روش اور چپلی کباب خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ خوشبودار چاول، خشک میوہ جات اور گوشت سے تیار کیا جانے والا کابلی پلاؤ عید کی دعوتوں کا مرکز بن جاتا ہے، جبکہ چپلی کباب اور روش مہمانوں کے ذائقے کو دوبالا کر دیتے ہیں۔
ہزارہ برادری کے گھروں میں بھی عید کے موقع پر روایتی کھانے تیار کیے جاتے ہیں جن میں آشک اور مانتو نمایاں ہیں۔ ان کے ساتھ مختلف اقسام کے پلاؤ اور میٹھے پکوان دسترخوان کو مزید دلکش بنا دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ثقافتی ٹوپیوں کے بنا بلوچستان کے باسیوں کی عید ادھوری کیوں؟
بلوچستان میں آباد پنجابی خاندان بھی عید کے موقع پر اپنے مخصوص پکوانوں کے ذریعے خوشیوں کو دوبالا کرتے ہیں۔ بریانی، قورمہ، پلاؤ اور شامی کباب پنجابی گھروں کے دسترخوان کی شان ہوتے ہیں، جبکہ میٹھے میں کھیر اور شیر خرما مہمانوں کے دل جیت لیتے ہیں۔
عیدالفطر کے دنوں میں بلوچستان کے گھروں اور بیٹھکوں میں بچھے دسترخوان دراصل محبت، رواداری اور ثقافتی ہم آہنگی کی علامت بن جاتے ہیں۔ مختلف ذائقوں اور روایات کا یہ حسین امتزاج اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ عید صرف ایک تہوار نہیں بلکہ دلوں کو قریب لانے کا خوبصورت بہانہ بھی ہے۔













