وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں ناجائز اسلحہ کے خاتمے کے لیے جامع ایکٹ کی منظوری دے دی

بدھ 11 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں ناجائز اسلحہ کے خاتمے کے لیے (The Punjab Surrender Illicit Arms Act 2026) کی منظوری دے دی۔ یہ پنجاب میں پہلی مرتبہ اسلحہ نمائش اور ناجائز استعمال کے سدباب کے لیے تیار کیا گیا جامع ایکٹ ہے۔

مزید پڑھیں:وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی کوئٹہ آمد، پرتپاک استقبال

وزیراعلیٰ نے عید الفطر کے بعد اسلحہ کلچر کے خاتمے کے لیے بھرپور مہم کا حکم دیا ہے اور اس سلسلے میں تمام شہریوں کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ ناجائز اسلحہ جمع کرائیں۔

نئے ایکٹ کے تحت ہر قسم کے ناجائز اسلحہ کے خاتمے کی شقیں شامل ہیں۔ انٹیک اسلحہ گھر میں آویزاں کرنے کے لیے خصوصی اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

ناجائز اسلحہ سی سی ڈی کو جمع کرانا ہوگا۔ لائسنس یافتہ اسلحہ بردار شہری کو اسلحہ رکھنے کی معقول وجہ بیان کرنی ہوگی۔ مقررہ مدت میں ناجائز اسلحہ جمع نہ کرانے پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں:محفوظ بسنت پر عملدرآمد، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا اہلِ لاہور کو خراجِ تحسین

یہ اقدام پنجاب میں اسلحہ کلچر کے خاتمے اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آپریشن ایپک فیوری کامیاب، ایران کو بڑی شکست دی، امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ

ایوانِ صدر میں سفارتی تقریب، 6 ممالک کے سفیروں نے صدر زرداری کو اپنی اسناد پیش کیں

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

پاکستان نے خطے میں قیام امن کے لیے اہم اور مثبت کردار ادا کیا، رجب طیب ادروان

9 اپریل کا جلسہ: پی ٹی آئی کا موٹروے کی بجائے جی ٹی روڈ سے جانے کا فیصلہ

ویڈیو

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟