دنیا بھر میں طبی تحقیق کے میدان میں مصنوعی ذہانت تیزی سے انقلاب برپا کر رہی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اے آئی کی مدد سے نہ صرف نئی ادویات کی دریافت کا عمل تیز ہو رہا ہے بلکہ ایسی بیماریوں کے ممکنہ علاج بھی تلاش کیے جا رہے ہیں جنہیں اب تک لاعلاج سمجھا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:اے آئی کا نیا کمال، میڈیکل طلبہ کی تربیت کے لیے فرضی مریضوں کا استعمال
ماہرین کے مطابق کئی دہائیوں تک ’لا علاج بیماری‘ کا تصور طب کی دنیا میں ایک ناقابل عبور دیوار سمجھا جاتا تھا، مگر اب مصنوعی ذہانت کی طاقت اس دیوار میں دراڑیں ڈال رہی ہے۔ جدید اے آئی ٹیکنالوجی کی بدولت محققین بیماریوں کے علاج کے روایتی طریقوں کو بدلتے ہوئے طبی سائنس کے نئے اصول متعارف کرا رہے ہیں۔
ادویات کی دریافت کے عمل میں بھی اے آئی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ روایتی طور پر نئی دوا تیار کرنے کا عمل انتہائی سست اور مہنگا ہوتا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2017 سے 2022 کے درمیان صرف 12 نئی اینٹی بائیوٹکس کو استعمال کی منظوری ملی۔
BREAKING:
China opens the world’s first AI hospital, "Agent Hospital," with virtual doctors and nurses handling up to 3,000 patients daily, scoring 93% on the US Medical Licensing Exam. pic.twitter.com/D7hMto1Zx9
— Current Report (@Currentreport1) August 9, 2025
دوسری جانب اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 50 لاکھ اموات کا سبب بن رہے ہیں۔
اس مسئلے کے حل کے لیے اے آئی ماڈلز اب اربوں کیمیائی مرکبات کا چند دنوں میں تجزیہ کر سکتے ہیں اور نئی دواؤں کے ممکنہ ڈھانچے دریافت کر رہے ہیں۔
میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں نے اے آئی کی مدد سے 2 ایسے مرکبات تیار کیے ہیں جو خطرناک بیکٹیریا جیسے گونوریا اور ایم آر ایس اے کے خلاف مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح پارکنسن جیسی اعصابی بیماری کے علاج کی تلاش میں بھی اے آئی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ افراد اس بیماری کا شکار ہیں۔ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے محققین نے مشین لرننگ کی مدد سے ایسے پروٹینز کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے جو بیماری کے آغاز میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سائنس دانوں کو امید ہے کہ مستقبل میں ایسے مرکبات تیار کیے جا سکیں گے جو بیماری کے آغاز کو ہی روک دیں۔
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ اے آئی پہلے سے منظور شدہ ادویات کو نئی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کرنے کے امکانات بھی تلاش کر رہی ہے۔ جدید ماڈلز دنیا بھر میں موجود تقریباً 8 ہزار ادویات کو سترہ ہزار مختلف بیماریوں کے ساتھ ملا کر دیکھ رہے ہیں تاکہ نئے علاج دریافت کیے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:اے آئی چیٹ بوٹ ’اپنی والدہ‘ کو یاد کرکے جذباتی، صارفین دنگ
اس کے علاوہ اے آئی کے ذریعے بیماریوں کی پیشرفت کو کمپیوٹر ماڈلز میں نقل کر کے ادویات کے اثرات کا تجربہ بھی ممکن ہو رہا ہے۔ پروٹین کی ساخت کی پیش گوئی کرنے والا اے آئی نظام ’الفا فولڈ‘ بھی اس میدان میں اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جس نے لاکھوں پروٹینز کی ساخت معلوم کرنے میں سائنس دانوں کی مدد کی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انقلاب کے باوجود کچھ چیلنجز باقی ہیں۔ کئی اہم طبی معلومات ابھی بھی دوا ساز کمپنیوں کے پاس محدود ہیں اور نئی ادویات کو انسانی آزمائش کے مراحل سے گزرنے میں کئی سال لگتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت دوا سازی کے عمل کو تیز اور مؤثر بنا رہی ہے، لیکن مکمل علاج تک پہنچنے کے لیے اب بھی انسانی تحقیق اور طویل طبی آزمائش ناگزیر ہے۔














