آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 3 مزید جہاز نامعلوم ڈرون سے متاثر ہوئے ہیں، جس کے بعد ایران کے تنازعے کے آغاز سے اس خطے میں نقصان اٹھانے والے جہازوں کی تعداد کم از کم 14 ہوگئی ہے، جبکہ ایرانی ڈرونز نے دبئی ایئرپورٹ کے قریب بھی ڈرون حملے کیے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت قریباً رک گئی ہے کیونکہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری سے ایران پر حملے شروع کیے، جس کی وجہ سے تیل کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں اور تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ گزرگاہ سے گزرنے والا کوئی بھی جہاز نشانہ بنایا جائے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر ایران اس راستے میں رکاوٹ پیدا کرتا رہا تو امریکا حملے بڑھا دے گا۔
بدھ کے روز تھائی پرچم والا جہاز گزرگاہ میں سفر کرتے ہوئے 2 نامعلوم ڈرونز سے متاثر ہوا، جس سے آگ لگی اور انجن روم کو نقصان پہنچا۔
کمپنی کے مطابق 3 عملے کے ارکان لاپتا ہیں اور ان کے انجن روم میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ باقی 20 عملے کے ارکان کو محفوظ طور پر عمان ساحل پر منتقل کردیا گیا۔
تھائی نیوی کی فراہم کردہ تصاویر میں جہاز کے پچھلے حصے سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔
ایرانی گارڈز نے تصدیق کی کہ جہاز ایرانی لڑاکا طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
امریکی نیوی نے جنگ کے آغاز کے بعد سے تجارتی جہازوں کی مسلسل درخواستوں کے باوجود ہرمز کے راستے فوجی اسکواڈ فراہم کرنے سے انکار کیا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر امریکا بحری اسکواڈ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
ادھر جاپان کے پرچم والے جہاز کو بھی نامعلوم ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے جس سے اسے معمولی نقصان پہنچا، تاہم عملہ محفوظ رہا۔
تیسرا جہاز، ایک بلک کیریئر 50 میل شمال مغرب دبئی میں نامعلوم ڈرون سے متاثر ہوا، اس حملے میں بھی عملہ محفوظ رہا۔
مزید پڑھیں: تیل کی طرح اب پانی بھی جنگ میں اہم ہدف
ایرانی گارڈز کے بیان میں ایک اور جہاز کا ذکر بھی شامل تھا جس پر ڈرون سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
یہ واقعہ ایران اور امریکی اسرائیلی کشیدگی کے دوران تجارتی جہازوں کی حفاظت کے خدشات کو مزید بڑھاتا ہے۔
دبئی ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے، 4 افراد زخمی
دبئی ایئرپورٹ کے قریب 2 ایرانی ڈرون حملے ہوئے، جہاں ایمیریٹس کی پروازیں اور بین الاقوامی ٹریفک کی سب سے بڑی تعداد موجود ہے، اس حملے میں 4 افراد زخمی ہوئے، تاہم پروازیں جاری رہیں۔














