امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں متعدد جدید مصنوعی ذہانت (AI) ٹولز استعمال کیے جا رہے ہیں، تاکہ ڈیٹا تیزی سے پروسیس ہو اور فیصلہ سازی میں مدد ملے۔
مزید پڑھیں: ایرانی صدر کی پاکستانی اور روسی قیادت سے گفتگو، جنگ بندی کے لیے 3 شرائط پیش کردیں
سینٹکام (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بتایا کہ اے آئی نظام سیکنڈز میں بڑے حجم کے ڈیٹا کو فلٹر کرتے ہیں، مگر حتمی فیصلہ ہمیشہ انسان کریں گے کہ کب اور کیا نشانہ بنایا جائے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران میں اسکول بمباری میں 170 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، اور انسانی حقوق کے ماہرین کی جانب سے اے آئی کے استعمال پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا کو ایران کے ممکنہ ڈرون حملے کا خدشہ؟
ایرانی ریڈ کریسنٹ کے مطابق اب تک قریباً 20 ہزار شہری عمارتیں اور 77 صحت کی سہولیات کو نقصان پہنچ چکا ہے۔
چینی وزارت دفاع نے بھی خبردار کیا ہے کہ فوجی مقاصد کے لیے اے آئی کا بے قابو استعمال عالمی اخلاقیات اور جنگی ذمہ داری کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔














