وفاقی حکومت کی ہدایات پر موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر گاڑیوں کی حدِ رفتار میں تبدیلی کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: نئی موٹرویز کم از کم 6 لین بنانے کا فیصلہ، این ایچ اے
ترجمان سینٹرل ریجن موٹروے پولیس سید عمران احمد کے مطابق ایندھن کی بچت کے پیش نظر نئی رفتار کی حد نافذ کر دی گئی ہے اور اس حوالے سے آگاہی مہم بھی شروع کر دی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق موٹرویز پر کار اور ایل ٹی وی کی رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دی گئی ہے جبکہ پی ایس وی اور ایچ ٹی وی کے لیے رفتار 110 سے کم کر کے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔
اسی طرح قومی شاہراہوں پر کار اور ایل ٹی وی کی رفتار 100 سے کم کر کے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے جبکہ پی ایس وی اور ایچ ٹی وی کے لیے حدِ رفتار 80 سے کم کر کے 65 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: کراچی کی 26 شاہراہوں پر رکشوں کا داخلہ بند، نوٹیفکیشن جاری
موٹروے پولیس کے مطابق نئی حدِ رفتار پر عملدرآمد کے لیے ملک بھر میں آگاہی مہم شروع کر دی گئی ہے اور ڈرائیورز سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قوانین کی پابندی کرتے ہوئے محفوظ ڈرائیونگ کو یقینی بنائیں۔
کیا اس سے ایندھن کی بچت ہوگی؟
آٹو موٹیو انجینئرز ملک راشد کے مطابق گاڑیوں کی رفتار کم کرنے سے ایندھن کی نمایاں بچت ممکن ہوتی ہے کیونکہ زیادہ رفتار پر گاڑی کو ہوا کی مزاحمت کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے انجن کو زیادہ طاقت درکار ہوتی ہے اور فیول خرچ بڑھ جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر 80 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر گاڑیاں بہتر فیول ایفیشنسی دیتی ہیں جبکہ 110 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار پر ایندھن کا استعمال تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس لیے حدِ رفتار کم کرنے سے نہ صرف ایندھن کی بچت ممکن ہوتی ہے بلکہ کاربن اخراج اور ٹریفک حادثات میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
یاد رہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: این ایچ اے کی جانب سے ایک بار پھر ٹول ٹیکس میں اضافہ، نئی شرح کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں مختلف ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ایندھن کی بچت کے اقدامات کو اہمیت دی جا رہی ہے اور حدِ رفتار میں کمی جیسے فیصلوں کو اسی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔














