مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے جدید جنگی حکمت عملی میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے کردار کو نمایاں کردیا ہے، جہاں اب ڈیٹا سینٹرز بھی اہم عسکری اہداف کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر انحصار بڑھنے کے باعث مستقبل کی جنگوں میں مصنوعی ذہانت کے مراکز براہِ راست نشانہ بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاسداران انقلاب نے گوگل سمیت دیگر ٹیک کمپنیوں کو جائز ہدف قرار دیدیا
یکم مارچ 2026 کو متحدہ عرب امارات میں قائم ایمازون کے 2 ڈیٹا سینٹرز ڈرون حملوں کی زد میں آئے جبکہ بحرین میں موجود ایک اور مرکز کو بھی نقصان پہنچا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ مراکز دشمن کی انٹیلیجنس سرگرمیوں میں معاونت کررہے تھے۔ حملوں کے بعد خطے میں ایمازون کی متعدد آن لائن سروسز متاثر یا جزوی طور پر معطل ہوگئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز جدید معیشت اور دفاعی نظام کا بنیادی حصہ بن چکے ہیں کیونکہ یہی مراکز مصنوعی ذہانت پلیٹ فارمز، کلاؤڈ سروسز، بینکاری نظام اور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کو چلانے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر ونسنٹ بولانین کے مطابق قومی سطح پر مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کے لیے ڈیٹا سینٹرز نہایت اہم بنیادی ڈھانچہ بن چکے ہیں، اس لیے مستقبل میں ان پر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین دفاعی مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیپ سیک کا استعمال کیسے کر رہا ہے؟
خصوصاً بڑے یا ہائپر اسکیلر ڈیٹا سینٹرز، جہاں 5000 سے زائد سرورز موجود ہوتے ہیں، حملہ آوروں کے لیے زیادہ پرکشش ہدف سمجھے جارہے ہیں کیونکہ ان کو نشانہ بنانے سے بینکاری نظام، سرکاری خدمات اور کلاؤڈ نیٹ ورکس بیک وقت متاثر ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ ڈیٹا سینٹرز میں زمینی سیکیورٹی مضبوط ہوتی ہے، تاہم فضائی یا ریاستی سطح کے حملوں سے بچاؤ کے لیے ان کے پاس مؤثر دفاعی نظام موجود نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے انہیں قومی دفاعی ترجیحات میں تیل تنصیبات یا آبی پلانٹس کے مقابلے میں کم اہم سمجھا جاتا رہا ہے۔
حالیہ حملوں نے خلیجی ممالک کی مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ معیشت سے متعلق حکمت عملی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اندازوں کے مطابق متحدہ عرب امارات میں 35 ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں اور آنے والے برسوں میں اس شعبے میں اربوں ڈالر سرمایہ کاری متوقع تھی، تاہم سیکیورٹی خدشات مستقبل کی سرمایہ کاری کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا اقوام متحدہ سے مصنوعی ذہانت کو ضابطہ اخلاق میں لانے کا مطالبہ، فوجی استعمال پر سخت انتباہ
ماہرین نے تجویز دی ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کو اہم قومی انفراسٹرکچر قرار دے کر میزائل دفاعی نظام کی حفاظت میں شامل کیا جائے تاکہ ڈیجیٹل معیشت اور عالمی مواصلاتی نظام کو ممکنہ خطرات سے بچایا جاسکے۔














