چین دفاعی مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیپ سیک کا استعمال کیسے کر رہا ہے؟

پیر 27 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کی سرکاری دفاعی کمپنی نورنکو نے ‘ڈیپ سیک’ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی خودکار جنگی گاڑی متعارف کرائی ہے، جو 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے معاونت فراہم کر سکتی ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بیجنگ جدید ہتھیاروں میں امریکی برتری کا مقابلہ کرنے کے لیے اے آئی کو تیزی سے اپنارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ڈیپ فیک سے ڈیٹا چوری تک، اے آئی سے ذاتی تصاویر بنوانا کتنا خطرناک؟

رائٹرز کی تحقیق کے مطابق، چین کی فوج (PLA) اور اس سے منسلک ادارے ‘ڈیپ سیک’ ماڈلز کو جنگی منصوبہ بندی، خودکار ہدف شناخت، اور ڈرون و روبوٹ کتوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ ان نظاموں سے فوجی فیصلوں کا عمل چند گھنٹوں سے کم ہو کر چند سیکنڈز میں ممکن ہو گیا ہے۔

دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی فوج امریکی پابندیوں کے باوجود این ویڈیا (Nvidia) کے اے-100 چپس استعمال کر رہی ہے، جبکہ ساتھ ہی ہواوے کے تیارکردہ ‘ایسینڈ’ چپس پر انحصار بڑھایا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق، ڈیپ سیک کی مقبولیت بیجنگ کے اس ہدف کو ظاہر کرتی ہے جسے وہ ‘الگورتھمک خودمختاری’ کہتا ہے یعنی مغربی ٹیکنالوجی سے انحصار کم کر کے اپنے ڈیجیٹل ڈھانچے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا۔

یہ بھی پڑھیے: کیا چینی ایپ ڈیپ سیک مصنوعی ذہانت کی دنیا میں انقلاب ہے؟

چینی دفاعی قیادت نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ہتھیاروں پر انسانی کنٹرول برقرار رکھے گی، تاہم خودکار ڈرونز اور روبوٹس کے استعمال میں تیزی عالمی سطح پر تنقید کو بھی دعوت دے رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بوٹوکس سے بشریٰ انصاری کا چہرہ کیسے متاثر ہوا؟ اداکارہ کا چونکا دینے والا انکشاف

فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

بابر اعظم کی بیٹنگ میں تکنیکی خامی کی نشاندہی، محمد یوسف نے اہم مسئلہ بتا دیا

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں