رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 120 ارکان سے زبردستی پارٹی چھڑوائی گئی ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ پارٹی سے نکالے گئے متعدد افراد کا کوئی قصور نہیں تھا بلکہ انہیں زبردستی الگ کیا گیا، جبکہ پارلیمانی کمیٹیوں کے بائیکاٹ کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا۔
یہ بھی پڑھیں: پریشانی والی بات نہیں، عمران خان آخری لائن نہیں پڑھ سکتے تو اس عمر میں ہم بھی نہیں پڑھ سکتے، شیر افضل مروت
انہوں نے کہا کہ تقریباً 120 سے 130 افراد کو پارٹی سے جبراً نکالا گیا، حالانکہ ان افراد کی غلطی نہیں تھی۔ ان کے مطابق تحریک انصاف میں جب کسی رہنما کی نشست خالی ہوتی ہے تو نئے لوگوں کے لیے آگے آنے کا موقع پیدا ہو جاتا ہے اور اسی عمل کے نتیجے میں نئی قیادت سامنے آتی ہے۔
تحریک انصاف کی قائمہ کمیٹیوں میں واپسی سے متعلق سوال کے جواب میں شیر افضل مروت نے کہا کہ کمیٹیوں کا بائیکاٹ مسائل کا حل نہیں، سیاست کا تقاضا ہے کہ پارلیمانی فورمز میں موجود رہ کر اپنا مؤقف پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں مختلف آوازیں ضرور ہیں مگر اصل توجہ عمران خان کے مؤقف پر ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی میڈیکل رپورٹ سے مطمئن، اس پر سیاست نہیں چاہتے، شیرافضل مروت
انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیاست دان گھروں میں بیٹھ جائیں تو عوام تک ان کی آواز نہیں پہنچ سکتی، اس لیے سیاسی جدوجہد جاری رکھنا ضروری ہے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ میڈیکل بورڈ کی جانب سے عمران خان کے اہلِ خانہ کو معائنے کی اجازت دینا ایک مثبت پیش رفت ہے اور اگر بورڈ مزید سفارشات دیتا ہے تو وہ اس کا خیرمقدم کریں گے۔ اس سے قبل عمران خان کو شفا اسپتال لایا جا رہا تھا تو ان کی بہن نے کہا کہ اگر میں نہیں ہوں گی تو یہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک پی ٹی آئی کو خاندان چھوڑے گا نہیں پارٹی آزادانہ فیصلے نہیں کرسکتی نہ آگے بڑھ سکتی ہے۔













