مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کی ذہنی صحت شدید متاثر

جمعرات 12 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم اور طویل مسلح تنازع نے کشمیری عوام کی ذہنی صحت پر شدید اثرات مرتب کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل اجلاس کے موقعے پر مذاکرہ، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش

رپورٹ کے مطابق کشمیری عوام کی ذہنی صحت رہائشی حالات، بنیادی انسانی حقوق اور سلامتی کے ساتھ براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔

گزشتہ 3 دہائیوں کے مسلح تنازع میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 8,000 سے زائد جبری گمشدگیاں دستاویزی شکل میں درج ہیں۔

5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد وادی میں طویل کرفیو اور تاریخ کی طویل ترین انٹرنیٹ بندش دیکھی گئی جس سے عوام کی ذہنی صحت مزید متاثر ہوئی۔

اہم اعداد و شمار

بالغ افراد میں 45 فیصد، یعنی تقریباً 18 لاکھ افراد ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

ڈپریشن 41 فیصد، بے چینی 26 فیصد اور پی ٹی ایس ڈی 19 فیصد افراد کو متاثر کر رہی ہے۔

سروے کے مطابق تقریباً 47 فیصد بالغ افراد شدید صدمہ خیز واقعات سے گزرے ہیں۔

8 سے 14 سال کے بچوں میں 22 سے 27 فیصد نفسیاتی امراض پائے گئے۔

مزید پڑھیے: مقبوضہ کشمیر میں مساجد کی پروفائلنگ پر پاکستان کا احتجاج

1994 سے 2012 کے درمیان خودکشی کی کوششوں میں 250 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔

ذہنی صحت کے صرف 10 فیصد مریضوں کو علاج میسر ہے۔

طبی سہولیات کی صورتحال

سنہ2011  کی مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر کی آبادی 1ایک کروڑ 25 لاکھ تھی۔

پورے خطے میں صرف 41 ماہر نفسیات موجود ہیں، زیادہ تر جموں اور سری نگر میں۔

ذہنی صحت کی خدمات زیادہ تر جی ایم سی سری نگر اور سکمز ہسپتال تک محدود ہیں۔

دس اضلاع میں مجموعی طور پر صرف 140 نفسیاتی بستروں کی سہولت موجود ہے۔

ضلعی کنسلٹنٹس کی تعداد صرف 5 سے 6 ہے۔

2020 کے دوران آئی ایم ایچ اے این ایس نے 77,000 سے زائد ذہنی صحت کے مریض رپورٹ کیے۔

خواتین میں تولیدی مسائل کی شکایت 61 فیصد جبکہ قومی اوسط 39 فیصد ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکمز کی تحقیق کے مطابق 65 سے 70 فیصد پی سی او ایس مریضوں میں نفسیاتی امراض پائے گئے اور ایس ایم ایچ ایس اور گورنمنٹ سائیکاٹرک ہسپتال میں آنے والے 75 فیصد مریض خواتین ہیں۔ وادی کی 91 فیصد بیواؤں نے دوبارہ شادی پر غور نہیں کیا۔

رپورٹ میں نوجوان اور بچوں پر ہونے والے اثرات بھی نمایاں ہیں۔ مثال کے طور پر 15 سالہ اشتیاق احمد کھنڈے کو 29 جون 2010 کو قتل کیا گیا جس کے بعد ان کی والدہ جمیلہ بانو میں ڈپریشن اور پی ٹی ایس ڈی کی تشخیص ہوئی۔

رپورٹ میں وادی کو ایک کھلی فضائی جیل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیری عوام طویل عرصے سے محاصرے اور خوف کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: مسلمانوں کا خوف، زیادہ داخلے ہونے پر بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا میڈیکل کالج بند کردیا

یہ رپورٹ انسانی حقوق کے فروغ اور کشمیری عوام کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر توجہ مبذول کرانے کا مقصد رکھتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد میں یوم القدس: سیکیورٹی خدشات کے باعث کون سی سڑکیں بند، کون سے راستے کھلے؟

پیٹرول بچاؤ، الیکٹرک بائیکس چلاؤ: حکومت بلوچستان کی الیکٹرک بائیکس اسکیم سے بائیکس کیسے حاصل کی جا سکتی ہیں؟

لاڑکانہ، کشمور اور کندھ کوٹ کے سرکاری گوداموں سے 24 ہزار میٹرک ٹن گندم کیسے غائب ہوئی؟

آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد، کیا گوادر، پورٹ قاسم اور کراچی کی بندرگاہیں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہیں

بادشاہی مسجد: فن اور تاریخ کا حسین امتزاج

ویڈیو

بادشاہی مسجد: فن اور تاریخ کا حسین امتزاج

روایتوں کے شہر میں نئی روایت: خواتین نے سنبھال لیا ٹریفک کا نظام

سورہ الکہف: آج کے فتنوں میں رہنمائی کا سر چشمہ

کالم / تجزیہ

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

ٹرمپ کے ممکنہ اہداف اور دم توڑتی امیدیں

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت