وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے 109 اینٹری پوائنٹس کو مرحلہ وار کم کر کے 25 تک لانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دارالحکومت میں سیکیورٹی انتظامات کو مؤثر اور منظم بنایا جا سکے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور شہری سہولتوں کے معیار کو بلند کرنے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل پولیس اکیڈمی میں جدید تربیتی موڈیولز متعارف کرانے کا فیصلہ
اجلاس میں سکیورٹی، شہری نظم و نسق اور صفائی سے متعلق متعدد اقدامات پر غور کیا گیا اور متعلقہ حکام کو فوری عملدرآمد کی ہدایات جاری کی گئیں۔
اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد کے 109 اینٹری پوائنٹس کو مرحلہ وار کم کر کے 25 تک لایا جائے تاکہ کسی بھی غیر یقینی صورتحال میں سیکیورٹی انتظامات کو مؤثر اور منظم بنایا جا سکے۔

وزیر داخلہ نے ریڈ زون کو عملی طور پر فعال بنانے کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ شہر کے ناکوں اور اینٹری پوائنٹس پر سخت نگرانی کے ذریعے سیکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ناکے صرف رسمی کارروائی کے لیے نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ان کی حقیقی افادیت واضح طور پر نظر آنی چاہیے، انہوں نے شہری سہولتوں اور خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی۔
محسن نقوی نے اس موقع پر واضح کیا کہ وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔
وزیر داخلہ نے شہر میں صفائی اور تجاوزات کے خاتمے کی ذمہ داری اسسٹنٹ کمشنرز کو سونپتے ہوئے ہدایت کی کہ بڑی شاہراہوں سے غیر ضروری سامان فوری طور پر ہٹایا جائے تاکہ ٹریفک کی روانی اور شہری نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی عملے کو شہر کی ترقی اور قانون کی عملداری کے لیے مکمل سپورٹ فراہم کی جائے گی۔
اجلاس میں چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈپٹی کمشنر، ڈی آئی جیز، ایس ایس پیز، ایس پیز اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز نے شرکت کی۔












