بنگلہ دیش: جسٹس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اعلان

ہفتہ 14 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش میں جسٹس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اعلان کردیا گیا، جبکہ عوامی لیگ پر مستقل پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

نعیم احمد جو حال ہی میں یونائیٹڈ پیپلز بنگلہ دیش کے چیف آرگنائزر رہ چکے ہیں، نے ایک نئی سیاسی پارٹی جسٹس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی  کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ملک کے سیاسی منظرنامے میں حالیہ عوامی بغاوت کے بعد ابھرتے ہوئے خلا کو پر کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے اپوزیشن اتحاد کا اجلاس: صحت مند سیاست کے فروغ کی ضرورت پر زور

سیاسی خلا اور پارٹی کی حکمت عملی

ڈھاکہ میں پریس کانفرنس کے دوران نعیم احمد نے کہاکہ جولائی کی بغاوت کے بعد بڑے سیاسی خلا نے جنم لیا، جس کے نتیجے میں کئی روایتی سیاسی قوتیں، جن میں عوامی لیگ اور جتیا پارٹی شامل ہیں، کمزور ہو گئی ہیں۔

نعیم احمد کے مطابق نئی پارٹی کا مقصد  بی این پی اور جماعت اسلامی کے موجودہ اثر و رسوخ سے بالاتر ایک مرکزی سیاسی متبادل فراہم کرنا ہے۔

پارٹی کی سیاسی لائن اور ترجیحات

انہوں نے کہاکہ جسٹس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کا مقصد قومی شناخت، جمہوری اصلاحات اور سماجی فلاح و بہبود کے اصولوں کو یکجا کرنا ہے۔

انہوں نے پارٹی کے 12 نکاتی ترجیحی پروگرام کا خاکہ پیش کیا، جس میں مذہبی اقدار کا تحفظ، جولائی چارٹر کا نفاذ، قومی خودمختاری کا تحفظ، ماحولیاتی تحفظ، روزگار پر مبنی مفت تعلیم، یونیورسل ہیلتھ کیئر، شفاف اور کرپشن سے پاک معیشت، سرمایہ کاری کے لیے دوستانہ ماحول، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کی ترقی، منصوبہ بندی شدہ شہری ترقی، بیرون ملک مقیم افراد کے لیے قانونی تحفظ، اور تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت شامل ہیں۔

نعیم احمد کے مطابق پارٹی اپریل کے پہلے ہفتے میں اپنے منشور، آئین اور مرکزی کمیٹی کے اعلان کے ساتھ باقاعدہ طور پر لانچ ہوگی، اور اس وقت تک وہ پارٹی کے ترجمان کے طور پر کام کریں گے۔

جولائی چارٹر اور سیاسی مطالبات

پریس بریفنگ کے دوران نعیم احمد نے جولائی چارٹر کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کیا اور حکومت سے اس پر سنجیدگی دکھانے کا کہا۔

انہوں نے عوامی لیگ کے خلاف قانونی کارروائی کی بھی بھرپور حمایت کی، اور الزام لگاتے ہوئے کہاکہ پارٹی جولائی کے واقعات کے دوران تشدد میں ملوث تھی۔

نعیم احمد نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا جائے تاکہ عوامی لیگ پر مستقل بنیادوں پر پابندی لگائی جا سکے۔

انہوں نے یہ بھی کہاکہ ملک کے مختلف حصوں میں عوامی لیگ کے دفاتر دوبارہ کھولے جا رہے ہیں، جس میں حکومتی عناصر کی مدد شامل ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سابق پابندی کو واپس لیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: شیخ حسینہ واجد نے سیاست سے توبہ کرلی، ’عوامی لیگ قائم رہے گی‘، بیٹے کا اعلان

انہوں نے خبردار کیاکہ اس معاملے میں وضاحت نہ ہونے کی صورت میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

سیاسی تعصب کے خاتمے کا مطالبہ

نعیم احمد نے کہاکہ سیاسی یا لیبل کی بنیاد پر ظلم و ستم بند ہونا چاہیے، خاص طور پر ان افراد کے حوالے سے جو عوامی لیگ چھوڑ چکے ہیں اور جن پر کوئی قانونی الزام نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی

دہشتگرد افغان حکومت نے سرخ لکیر عبور کرلی، صدر مملکت کی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی مذمت

پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

عیدالفطر کب ہوگی؟ محکمہ موسمیات کی چاند کی پیدائش سے متعلق نئی پیشگوئی

ویڈیو

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے