سنہ 2024 کے بعد بطور وزیراعظم شہباز شریف کی یہ سیاسی طور پر پہلی بڑی تبدیلی ہے جس میں سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری کو عہدے سے ہٹا کر پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما نہال ہاشمی کو نیا گورنر تعینات کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت کی نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری، کامران ٹیسوری کا فون، مبارکباد
یہ تبدیلی پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کو کی گئی سفارش کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔
کامران ٹیسوری، جو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں، کو سنہ 2022 میں سندھ کا گورنر تعینات کیا گیا تھا۔ ان کی تعیناتی سے قبل اور بعد میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان سندھ، خاص طور پر کراچی میں، سیاسی گشیدگی جاری رہی
اپریل 2024 میں پیپلز پارٹی کے سندھ جنرل سیکریٹری سینیٹر وقار مہدی نے ٹیسوری کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ کامران ٹیسوری شہری اور دیہی سندھ کے درمیان تقسیم کو مزید بڑھا رہے ہیں اور وفاق کی نمائندگی کے بجائے سیاسی تقسیم پیدا کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: ’محاذ آرائی کی سیاست نہیں کریں گے‘، نہال ہاشمی نے گورنر سندھ کا حلف اٹھالیا
فروری 2026 میں بھی پیپلز پارٹی نے ٹیسوری کی برطرفی کا مطالبہ دہرایا اور انہیں آئینی حدود سے تجاوز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
نہال ہاشمی کو گورنر سندھ لگانے کا مشورہ کس کا تھا؟
مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق، چند روز قبل جاتی عمرہ میں وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف اور مریم نواز کے درمیان ایک اہم میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں سندھ کے گورنر کے عہدے کے لیے 2 نام زیر غور آئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ ن سندھ کے صدر بشیر میمن کا نام تجویز کیا تاہم نہ تو مریم نواز نے اس پر اتفاق کیا اور نہ ہی نواز شریف بشیر میمن کو تعینات کرنے پر تیار تھے۔
اس موقعے پر نواز شریف نے خود نہال ہاشمی کا نام پیش کیا اور شہباز شریف کو بتایا کہ یہ ہمارے دیرینہ ساتھی ہیں۔ اگر سندھ میں کوئی گورنر شپ کا حقدار ہے تو وہ نہال ہاشمی ہیں۔
مزید پڑھیں: صوبہ سندھ کے نئے گورنر نہال ہاشمی کون ہیں؟
نواز شریف نے نہال ہاشمی کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب اسٹیبلشمنٹ مسلم لیگ ن کے خلاف تھی تو سندھ میں صرف نہال ہاشمی کی توانا اور جارحانہ آواز پارٹی کے ساتھ کھڑی تھی۔
ان کی پارٹی کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے نواز شریف نے زور دیا کہ نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے شہباز شریف کو یہ مشورہ بھی دیا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے نظریاتی اختلافات ضرور ہیں لیکن پیپلز پارٹی حکومت میں ہماری اتحادی ہے اور اس اتحاد کو قائم رکھنا بہت اہم ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی خواہش تھی کہ ایم کیو ایم سے وابستہ کسی شخص کو گورنر شپ نہ دی جائے جس کے بعد وزیراعظم نے کامران ٹیسوری کو ہٹا کر نہال ہاشمی کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے: گورنر نہال ہاشمی سے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی ملاقات، صوبے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
نہال ہاشمی ماضی میں متنازع بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہے، سنہ 2017 میں، جب نواز شریف خاندان کے اثاثوں سے متعلق پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات چل رہی تھیں، نہال ہاشمی نے ججوں اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو دھمکی بھرا بیان دیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس لیا تھا۔
فروری 2018 میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی اور انہیں ایک ماہ کی قید، 50,000 روپے جرمانہ اور 5 سال کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ اس کیس میں انہوں نے غیر مشروط معافی مانگی تھی لیکن عدالت نے سزا برقرار رکھی۔ بعد میں مزید متنازع بیانات پر بھی نوٹس جاری ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں: مریم نواز کے نقش قدم پر چلیں گے، سیاسی مسائل بیٹھ کر حل کریں گے، نومنتخب گورنر سندھ نہال ہاشمی
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم سندھ کی سیاست میں نئی صف بندیوں کا آغاز ہو سکتا ہے جہاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا اتحاد ایم کیو ایم کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔













