سعودی عرب کی کنگ فیصل یونیورسٹی نے جینیوا انٹرنیشنل ایگزیبیشن آف انوینشنز کے 51ویں ایڈیشن میں نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے 5 تمغے اپنے نام کر لیے۔ اس عالمی نمائش میں 40 ممالک سے ایک ہزار سے زائد ایجادات پیش کی گئیں۔
یونیورسٹی کو خودکار مرمت کرنے والی آئل پائپ کوٹنگ پر سونے کا تمغہ دیا گیا، جبکہ میتھانول کو توانائی میں تبدیل کرنے، کھجور کی شاخوں سے تیار کردہ بایوڈیگریڈیبل طبی پٹیاں بنانے، اور پلاسٹک بوتلوں کی ری سائیکلنگ سے لچکدار مصنوعات تیار کرنے جیسے منصوبوں پر 3 چاندی کے تمغے حاصل ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی وزارتِ سیاحت کا مہمان نوازی مراکز اور ہوٹلوں کے معائنے تیز کرنے کا فیصلہ
اس کے علاوہ زرعی مصنوعات میں پھپھوندی کی افزائش کی پیشگوئی کرنے والے اسمارٹ سینسر پر کانسی کا تمغہ دیا گیا۔
یہ کامیابیاں یونیورسٹی کے عالمی معیار کو ظاہر کرتی ہیں، جو 2024 اور 2025 میں پیٹنٹ رجسٹریشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 100 جامعات میں شامل رہی ہے۔














