سپریم کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کے ایک اہم مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا۔
عدالتِ عظمیٰ کے جج جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے اپیلوں پر جاری کردہ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف ٹھوس اور آزادانہ شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔
عدالت نے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تکنیکی بنیاد پر انصاف کے دروازے بند نہیں کیے جا سکتے، سپریم کورٹ
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے اور ان کی شناخت کا عمل بھی مشکوک ہے۔
عدالت کے مطابق گواہان کا موقع پر موجود ہونا اور اتنے بڑے حملے میں کسی قسم کی چوٹ نہ آنا غیر فطری امر ہے۔
مزید برآں، ملزمان کی مشترکہ شناخت پریڈ کو قانونی طور پر ناقابلِ قبول اور غیر محفوظ قرار دیا گیا، جبکہ یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ شناخت پریڈ سے قبل ہی ملزمان کی شناخت پولیس پر ظاہر ہو چکی تھی۔
مزید پڑھیں: محض سرکاری محکمہ بننے سے ملازمین سول سرونٹ نہیں بن جاتے، سپریم کورٹ
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ پولیس کے مطابق ملزمان نے ایک دوسرے مقدمے کی تفتیش کے دوران پنڈی گھیب واقعے کا اعتراف کیا تھا، تاہم جس مقدمے میں اعتراف کیا گیا، اس میں ملزمان پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔
اس بنا پر عدالت نے قرار دیا کہ پہلے کیس میں بریت کے بعد مبینہ اعتراف اپنی قانونی حیثیت کھو چکا ہے۔
یاد رہے کہ یہ واقعہ یکم مئی 2011 کو پنڈی گھیب میں پیش آیا تھا، جہاں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: شک کا فائدہ ملزم کو، سپریم کورٹ نے باپ کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی
حملے میں سب انسپکٹر محمد رمضان سمیت 6 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ ملزمان پر آئل ٹینکرز کو آگ لگانے اور سرکاری اسلحہ چھیننے کے الزامات بھی عائد تھے۔
ٹرائل کورٹ نے ملزمان کو 6 بار سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں، جنہیں بعد ازاں ہائیکورٹ نے برقرار رکھا تھا۔
تاہم اب سپریم کورٹ نے ان تمام سزاؤں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کردیا ہے۔














