دوست زیادہ ہوں تو اچھا، کم ہوں تو اور اچھا، جانیے کیسے؟

منگل 17 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ زیادہ دوست ہونا خوشگوار اور کامیاب سماجی زندگی کی علامت ہے لیکن بعض سائنسی تحقیقات اس تصور کو مختلف زاویے سے دیکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلیاں کینسر کے علاج کے لیے اہم سراغ فراہم کریں گی

ماہرین کے مطابق کچھ افراد کم سماجی میل جول کے باوجود ذہنی طور پر زیادہ مطمئن اور متوازن زندگی گزار سکتے ہیں اور اس کی ایک وجہ ان کے دماغ کے کام کرنے کا مختلف انداز ہو سکتا ہے۔

ذہین افراد سماجی تعلقات کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں

ایک رپورٹ کے مطابق ذہین افراد سماجی معاملات کو عام لوگوں سے مختلف طریقے سے سمجھتے اور ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔

ایسے افراد کا دماغ مسلسل مختلف پیٹرن تلاش کرتا ہے، باتوں کے پوشیدہ معانی پر غور کرتا ہے اور زیادہ بامعنی اور فکری گفتگو کی خواہش رکھتا ہے۔

اسی وجہ سے وہ اکثر وسیع سماجی حلقے بنانے کے بجائے کم مگر گہرے اور معنی خیز تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں۔

کم دوست مگر مضبوط تعلقات

مطالعوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ زیادہ ذہین افراد عموماً چند قریبی اور مضبوط تعلقات کے ذریعے اپنی زندگی سے زیادہ اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ ان کے لیے تعلقات کی تعداد سے زیادہ ان کا معیار اہم ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ لازماً تنہائی پسند رویہ نہیں بلکہ ایک مختلف اور مؤثر سماجی طرز عمل ہو سکتا ہے۔

سماجی میل جول اور ذہنی تھکن

بعض افراد کو سماجی تقریبات یا طویل گفتگو کے بعد ذہنی تھکن محسوس ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے: کتے نے ابتدائی اسٹیج کینسر کی نشاندہی کرکے مالکن کی جان بچالی

نفسیات کے ماہرین کے مطابق یہ تھکن دراصل ذہنی دباؤ کا نتیجہ ہوتی ہے بالکل اسی طرح جیسے کوئی شخص کئی گھنٹوں تک مشکل ریاضی کے مسائل حل کرتا رہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایسے افراد اپنی پیچیدہ یا گہری سوچ کو سادہ الفاظ میں بیان کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہتے ہیں۔

خیالات چھپانے کی مجبوری

کئی مرتبہ ایسے افراد اپنی باریک بینی یا گہری سوچ کو ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں تاکہ لوگ انہیں ’زیادہ سوچنے والا‘ یا ’مبالغہ کرنے والا‘ نہ سمجھیں۔

اسی لیے وہ بعض گفتگو میں صرف مسکرا کر یا سر ہلا کر ساتھ دیتے ہیں حالانکہ ان کا ذہن زیادہ سنجیدہ اور فکری گفتگو کی خواہش رکھتا ہے۔

’کوورنگ‘ اور ذہنی دباؤ

ماہرین اس کیفیت کو ’کوورنگ‘  یا ’زبان کی تبدیلی‘ کہتے ہیں۔ اس عمل میں انسان اپنے اصل خیالات اور انداز گفتگو کو سماجی طور پر قابل قبول بنانے کے لیے تبدیل کرتا ہے۔

محققین کے مطابق یہ عمل ذہنی طور پر تھکا دینے والا ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں انسان کو مسلسل اپنے اظہار کو محدود یا تبدیل کرنا پڑتا ہے۔

فکری ہم آہنگی کی تلاش

جب ایسے افراد کو وہ لوگ مل جاتے ہیں جو ان کی سوچ کو سمجھتے ہوں اور گہرے موضوعات پر گفتگو کر سکیں جیسے مصنوعی ذہانت کے انسانی شعور پر اثرات یا جینیاتی انجینئرنگ کی اخلاقیات—تو انہیں حقیقی ذہنی سکون محسوس ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اصل چیلنج ایسے افراد کو تلاش کرنا ہوتا ہے جو انسان کی سوچ اور اندازِ گفتگو سے ہم آہنگ ہوں۔

تنہائی کا دلچسپ تضاد

دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض ذہین افراد ہجوم میں بھی تنہائی محسوس کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک تعلق یا رابطے کا تصور دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا بچپن کا موٹاپا زندگی بھر کے خطرے کی علامت ہے؟

ان کے لیے حقیقی رابطہ تب قائم ہوتا ہے جب کوئی شخص ان کے اصل خیالات اور سوچ کے ساتھ جڑ سکے، نہ کہ صرف اس سادہ انداز کے ساتھ جو وہ معاشرتی طور پر قابلِ قبول بنانے کے لیے پیش کرتے ہیں۔

ایک گہری گفتگو کی اہمیت

اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی ایک ایسا شخص جو آپ کی سوچ کو واقعی سمجھتا ہو، اس کے ساتھ ہونے والی ایک گہری گفتگو سو سطحی ملاقاتوں سے کہیں زیادہ قیمتی اور معنی خیز ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کفایت شعاری مہم: صدر مملکت نے یوم پاکستان کی پریڈ اور تقریبات منسوخ کرنے کی منظوری دیدی

اسپتال پر حملے میں 400 ہلاکتوں کا دعویٰ، افغان میڈیا نے طالبان رجیم کا جھوٹ بے نقاب کردیا

اسپتال پر حملے کا دعویٰ جھوٹ، افغانستان پوزیشن واضح کرے دہشتگردوں کے ساتھ کھڑا ہے یا پاکستان کے ساتھ، عطا تاڑ

حکومت نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم کو غیر ملکی سرمایہ کاروں تک توسیع دے دی

جہاں جہاں اور جس چیز سے ملک کو خطرہ ہے اسے ختم کرنا پاکستان کا حق ہے، بیرسٹر گوہر

ویڈیو

دہشتگردوں کا نیا پروپیگنڈا، ٹرمپ عالمی تنہائی کا شکار ہوگئے

کسی بھی مسئلے پر زیادہ سوچنا پیچیدہ مسئلہ ضرور، لیکن اس کا آسان حل کیا ہے؟

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا