پاکستان نے 16 مارچ کی رات ننگرہار اور کابل پر فضائی حملے کیے، ان حملوں کا نشانہ دہشتگردوں کی پناہ گاہیں، ٹریننگ سینٹرز، افغان طالبان کی ملٹری انسٹالیشن اسلحہ ڈپو تھے۔ یہ حملے باجوڑ میں پاکستانی شہریوں کی شہادت کے جواب میں کیے گئے تھے۔ کابل میں ہوئے ملٹری ڈپو بھی اس حملے کا نشانہ بنا۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ یہ منشیات کے عادی افراد کا بحالی سینٹر تھا، اس سینٹر کے نشانہ بننے سے سینکڑوں افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
پاکستانی آفیشل افغان طالبان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا تھا اور اسٹرائیک کے بعد وہاں ہونے والے دھماکے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں موجود اسلحہ اور بارود پھٹنے سے ہی بعد میں دھماکے ہوئے۔ پاکستان نے اس سے پہلے 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب قندھار میں بدری 313 یونٹ کو بھی ٹارگٹ کیا تھا۔ پاکستانی حملے میں بدری 313 کے اہم کمانڈر حافظ حبیب اور ڈیڑھ درجن بدری فائٹرز کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
افغان طالبان نے پاکستانی فضائی حملوں سے ہونے والے نقصانات پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، میڈیا کو سختی سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ویڈیو بنانے اور نقصانات کی خبر دینے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔ کابل پر ہوئے حملے کے بعد کئی ایسے افراد کو گرفتار بھی کیا گیا جو ویڈیو شیئر کرنے یا بنانے کے مجرم تھے۔ کچھ ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئیں جن میں طالبان کی تباہی کے ذمہ دار ملا ہیبت اللہ کو بتاتے ہوئے ویڈیو بنانے والے گالیاں تک بکتے دکھائی دیے۔ ایک جملہ غور کے قابل ہے کہ دہائیوں میں تعمیر ہوا کابل طالبان کی پالیسیوں سے دنوں میں تباہ ہوتھا دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان کی دہشتگرد مسلح گروپوں کے حوالے سے پالیسی مکمل بدل چکی ہے، اس کی ایک نشانی بدری 313 کو قندھار میں ٹارگٹ کیا جانا بھی تھا۔ اس یونٹ کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ اسے غزوہ بدر اور اس میں حصہ لینے والے 313 صحابہ کرام کے نام کے حوالے سے ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ یونٹ افغان طالبان کے وزیرداخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی کے بھائی بدرالدین حقانی کا برین چائلڈ ہے۔ بدرالدین حقانی 24 اگست 2012 کو شمالی وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔
بدری 313 کو باقاعدہ شکل 2015 میں دی گئی تھی، اس یونٹ کی تشکیل کا آئیڈیا یہ تھا کہ ایک ایسی اسپیشل فورس تشکیل دی جائے جو گوریلہ جنگ، دو بدو لڑائی اور مشکل مشن سرانجام دے سکے۔ اس کی ٹریننگ اور سلیکشن کے کڑے معیار رکھے گئے تھے۔ سراج حقانی کی طاقت کا مرکز اسی یونٹ کو سمجھا جاتا ہے۔ ملا ہیبت اللہ نے سراج حقانی کا اثر کم کرنے کے لیے اس یونٹ کو اپنے خصوصی حفاظتی دستے کے طور پر قندھار میں تعینات کر رکھا تھا۔ بدری 313 کے نشانہ بننے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ پاکستان قندھاری حقانی میں کوئی فرق نہیں کرتا، سب کو نشانہ بنا رہا ہے۔
افغانستان میں قوم پرست دو طرح کے ہیں۔ پرانے قوم پرست روس نواز تھے جو ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب اللہ احمد زئی کی روس نواز حکومتوں کی حمایت کرتے رہے۔ نئے قوم پرست حامد کرزئی اور اشرف غنی کی امریکا نواز حکومتوں میں سامنے آئے اور یہ زیادہ تر اشرف غنی کے مداح ہیں۔ یہ نئے پرانے قوم پرست پاکستان کے شدید مخالف ہیں، ان کا مؤقف یہ ہے کہ پاکستان نے افغانستان کی جائز حکومتوں کو نہیں مانا اور افغانوں اور افغانستان کو تباہ کیا ہے۔
افغان طالبان بھی پاکستان مخالف اسٹینڈ لے کر اب افغان قوم پرستوں کی نوبیاہی دلہن بنے ہوئے ہیں۔ افغان طالبان کا بھی یہی مؤقف ہے کہ افغانستان کی تباہی پاکستان کے ہاتھوں ہوئی ہے، ہمیں ان سب کا یہ مؤقف تسلیم کر لینا چاہیے، ساتھ بتانا چاہیے کہ افغانوں کی تازہ تباہی میں ہم اگر پیچھے سے ہلا شیری دے رہے تھے تو عملی طور پر بربادیاں اور فساد مچانے والے افغان طالبان ہی تھے۔ اگر افغان قوم پرستوں کی بات مانتے ہوئے افغان طالبان بھی اسے فساد مانتے ہیں تو پھر جو حکومت انہوں نے بنائی ہے وہ اسلامی ہرگز نہیں ہے فسادی ہی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔











