پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات اس سطح پر لائے جائیں کہ پاکستان میں دہشتگردی مکمل طور پر ختم ہو جائے۔ ان کے بقول جہاں جہاں اور جس بھی چیز سے ملک کو خطرہ ہے، اسے ختم کرنا پاکستان کا حق ہے۔
اڈیالہ روڈ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی نے کہاکہ وہ ہر بار عمران خان سے ملنے آتے ہیں لیکن افسوس کہ ملاقات ممکن نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی دوسری آنکھ بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے، علیمہ خان نے عید کے بعد کا پلان بتا دیا
انہوں نے کہاکہ دنیا بھر میں قیدی اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کررہے ہیں، جبکہ ملاقاتیں روکنا اور دروازے بند کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے، اور یہ سوچنا کہ اس سے حالات بہتر ہو جائیں گے، غلط فہمی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے خبردار کیاکہ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو مشکل حالات المیہ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، جو کسی صورت قبول نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشتگردی، منشیات اور اسلحہ کی موجودگی پاکستان کے لیے خطرہ ہے اور افواج غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتیں۔
احتجاج کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی 22 مرتبہ ہائیکورٹ گئی لیکن ہر مرتبہ مایوس رہی۔
انہوں نے کہاکہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو تحریک چلانے اور سیاسی آپشن استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ ڈاکٹر ندیم قریشی کا نام بھی دیا گیا تھا اور انہیں اور علامہ ناصر عباس کو ڈیڑھ گھنٹے تک عمران خان کی صحت پر بریف کیا گیا۔
مزید پڑھیں: عمران خان کے بیٹوں کو فوری ملاقات کی اجازت دی جائے، جمائمہ خان کی شہباز شریف سے اپیل
اس موقع پر پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجا نے کہاکہ پارٹی میں حکمت عملی اور دانش موجود ہے، تمام فیصلے ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔
انہوں نے واضح کیاکہ عمران خان کی صحت اور رہائی ہر چیز سے مقدم ہے، اور پاکستان کی سالمیت اور بقا ان کے لیے سب سے اہم ہے۔














