بنگلہ دیش میں چینی سفارتخانہ نے جماعت اسلامی کی جانب سے عید ریلیف کے دوران امدادی سامان کی تقسیم کے حوالے سے جاری کیے گئے بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا پر پارٹی کی جانب سے اس تقریب کو چین کے ساتھ مشترکہ اقدام بتایا گیا تھا۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے وفد کی امریکی نائب سیکریٹری سے ملاقات
ذرائع کے مطابق چینی سفارتخانہ نے منگل کو ڈھاکا 15 حلقے میں ایک ہزار سے زائد رہائشیوں کو عیدالفطر کے موقع پر خوراک کے پیکیجز تقسیم کیے۔ اس خیراتی پروگرام میں چینی سفیر یاؤ وین، جماعت اسلامی کے امیر اور اپوزیشن رہنما ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، جو حلقے کے رکنِ پارلیمنٹ بھی ہیں، نے شرکت کی۔
تنازع اس وقت پیدا ہوا جب جماعت اسلامی کے تصدیق شدہ سوشل میڈیا پیج پر پوسٹس میں اس پروگرام کو پارٹی اور چینی سفارتخانہ کے مشترکہ اقدام کے طور پر پیش کیا گیا۔ پوسٹس میں کہا گیا کہ میرپور 10 میں خوراک کے پیکیجز چینی سفیر اور جماعت کے سربراہ کی شرکت سے تقسیم کیے گئے۔
منگل کی شب دیر گئے، چینی سفارتخانہ نے اپنے تصدیق شدہ فیس بک پیج پر بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا کچھ مواد حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ سفارتخانہ نے بنگلہ دیش کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی پالیسی اور منتخب حکومت کی مستحکم حکمرانی کے لیے حمایت کو دہرایا۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی سربراہ کے خط پر تنازع، مشیر کو وزارتی درجہ دینے کی تجویز پر بحث چھڑ گئی
سفارتخانہ نے مزید کہا کہ چین بنگلہ دیش کی حکومت کے ساتھ تعاون کو مضبوط کرنے اور دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے اور دوطرفہ دوستانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کرے گا۔
اس سے قبل دن کے دوران، سفارتخانہ نے بتایا تھا کہ امدادی تقسیم چینی مشن کی جانب سے عیدالفطر کے موقع پر انسانی ہمدردی کے تحت کی گئی۔ سفیر یاؤ وین نے کہا کہ چین اور بنگلہ دیش جامع اسٹریٹجک پارٹنرز ہیں اور یہ امداد بنگلہ دیشی عوام کے لیے چین کی نیک نیتی کی عکاسی کرتی ہے۔
ڈاکٹر شفیق الرحمٰن نے چین کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی علامت قرار دیا، جبکہ عوامی فلاح کے لیے پارٹی کے مابین تعلقات اور تعاون بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔













