بنگلہ دیش کے جنوب مغربی ضلع خُلنا میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک گھر میں گھس کر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد زخمی ہو گئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش پولیس میں اعلی سطح پر تبادلے، آر اے بی، ایس بی اور سی آئی ڈی کے نئے سربراہ تعینات
پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح بٹیاگھاٹا اپضلع کے خدیجہ باغ، کرشن نگر ٹکرآباد کے علاقے میں پیش آیا جہاں حملہ آور صبح تقریباً ساڑھے 6 بجے گھر میں داخل ہوئے اور اہلِ خانہ پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
زخمیوں کی شناخت قاضی انیس الرحمٰن، ان کی اہلیہ رنجوارہ بیگم، بیٹا رئیس الاسلام اور بہو فہیمہ کے نام سے ہوئی ہے۔ شدید زخمی ہونے والی رنجوارہ بیگم اور فہیمہ کو ابتدائی طبی امداد کے بعد خُلنا میڈیکل کالج اسپتال سے ڈھاکہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق واقعہ بظاہر ذاتی دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ انیس الرحمٰن کے چھوٹے بیٹے رشید الاسلام کو ماضی میں ایک مقدمے میں جیل ہوئی تھی جہاں اس کی ملاقات عمران نامی شخص سے ہوئی۔ بعد ازاں رشید الاسلام کے عمران کی بیوی فہیمہ کے ساتھ تعلقات قائم ہوئے اور تقریباً 6 ماہ قبل دونوں نے شادی کر لی، جبکہ عمران ایک اور مقدمے میں دوبارہ جیل چلا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے ممکنہ طور پر اسی شادی کا بدلہ لینے کے لیے یہ اقدام کیا۔ فہیمہ کے مطابق اس کا سابق شوہر عمران چند افراد کے ساتھ صبح سویرے گھر آیا اور اہلخانہ کے سوئے ہونے کے دوران فائرنگ کر دی۔
لبانچرا تھانے کے افسر انچارج محمد توحید الزمان کے مطابق رنجوارہ بیگم کو سینے میں جبکہ فہیمہ کو ٹانگ میں گولیاں لگیں جنہیں فوری طور پر نکالنا ممکن نہ تھا اسی لیے انہیں ڈھاکہ منتقل کیا گیا۔
مزید پڑھیے: عید سے قبل بنگلہ دیش میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ، صارفین پریشان
پولیس کے مطابق حملے میں کم از کم 6 افراد ملوث تھے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ واقعے کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔













