اقوام متحدہ نے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان فوجی کارروائیوں میں طے پانے والے عارضی وقفے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس میں مزید توسیع کی جائے گی۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان عزیز حق نے صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ایک مثبت پیشرفت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں آپریشن غضب للحق، سیز فائر تک پاک فوج کی کامیابیاں کیا ہیں؟
اقوام متحدہ کے مطابق یہ فیصلہ ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کی جانب سے عیدالفطر کے موقع پر کی گئی درخواستوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ وقفے کا آغاز بدھ کی شب بارہ بجے سے ہوگا اور یہ 23 مارچ تک جاری رہے گا۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں فریقین نے عید کے دوران فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں، چین کا پاکستان اور افغانستان پر جنگ بندی کے لیے زور
نائب ترجمان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پہلے ہی کشیدگی کم کرنے، فوری جنگ بندی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر زور دے چکے ہیں، اور موجودہ پیش رفت اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عید کے دوران طے پانے والا یہ وقفہ مزید طویل مدت تک جاری رکھا جائے گا۔














