چین نے پاکستان اور افغانستان پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
مزید پڑھیں: آپریشن غضب للحق کامیابی سے جاری، 663 افغان دہشتگرد ہلاک، 249 ٹھکانے تباہ
چین کی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق وانگ یی نے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ پرامن رہیں، صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور باہمی ملاقاتوں کے ذریعے فوری جنگ بندی قائم کریں اور اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے سلجھائیں۔
وانگ یی کا پیغام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال
چینی وزیر خارجہ نے خبردار کیاکہ طاقت کے استعمال سے صرف صورتحال پیچیدہ ہوگی اور کشیدگی مزید بڑھ جائے گی۔

انہوں نے مزید کہاکہ چین افغانستان سمیت بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر ایران میں امن قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب پاکستان کا افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے۔ 12 اور 13 مارچ کی درمیانی شب پاکستان نے افغانستان کے قندهار ایئرپورٹ کے قریب ایندھن کے ڈپو پر فضائی حملہ کیا۔
سیکیورٹی ذرائع نے ویڈیو جاری کی جس میں پاکستانی فوج کی فضائی کارروائی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
کارروائی کے بعد کہا گیا ہے کہ قندهار کے ایئر فیلڈ پر موجود آئل گودام افغان طالبان اور دیگر دہشتگرد گروہوں کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہے تھے جنہیں تباہ کردیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن تب تک جاری رہے گا جب تک طے شدہ اہداف حاصل نہ ہو جائیں۔
وزارت اطلاعات کے مطابق اب تک سینکڑوں افغان دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان نے متعدد چوکیوں کو بھی تباہ کردیا ہے۔
سرحدی کشیدگی اور گزشتہ جھڑپیں
طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کے خیبر صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار دہشتگرد کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: افغانستان کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری: 641 دہشتگرد ہلاک، 243 چیک پوسٹیں تباہ
اکتوبر 2025 میں دونوں ممالک کی سرحد پر بھی جھڑپیں ہوئی تھیں، جس میں طالبان اور اتحادیوں کے 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستان نے افغان طالبان حکومت پر واضح کیا ہے کہ انہیں دہشتگردوں یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔














