وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت خطے میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کابینہ کا کفایت شعاری اور ایندھن بچت پلان منظور، معاشی دباؤ کے پیش نظر اہم فیصلے
اجلاس کو ملکی ایندھن کے موجودہ ذخائر، کھپت اور درآمدی کارگوز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے اور مزید انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ وزیراعظم کی بروقت ہدایات اور عملی اقدامات کی بدولت ایندھن کے ذخائر کے حوالے سے مؤثر انتظام ممکن بنایا گیا۔ تاہم مشرق وسطیٰ اور خطے کی غیر مستحکم صورتحال کے باعث ایندھن کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے آئندہ دنوں میں مزید بچت اقدامات ناگزیر ہوں گے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبوں کے ساتھ مل کر ایک جامع لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
اجلاس کو کفایت شعاری اور بچت اقدامات پر عملدرآمد کی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا ممکن ہوا ہے۔
مزید پڑھیے: کفایت شعاری کے لیے وزیراعظم کے اعلانات، قومی خزانے کو کتنی بچت ہوگی؟
بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ انٹیلیجنس بیورو بھی صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ کسی قسم کی بے ضابطگی کی فوری نشاندہی کی جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اشرافیہ کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کر ایثار اور قربانی کی مثال قائم کرے اور بچت و کفایت شعاری کو فروغ دے۔ حکومت نے عوام سے بھی اپیل کی کہ پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں احتیاط برتی جائے تاکہ مستقبل میں ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔
اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا اور بدلتے حالات کے مطابق حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ پیٹرول کی بچت کے لیے کار پولنگ کو فروغ دینے، اجتماعی سفر کو اپنانے اور غیر ضروری آمد و رفت سے اجتناب کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کے لیے تیار رہیں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور مکمل ریکارڈ رکھا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی بے قاعدگی کو فوری طور پر روکا جا سکے۔
مزید پڑھیں: ورک فرام ہوم، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کمی، خیبرپختونخوا نے بھی اہم فیصلے کرلیے
اجلاس میں آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر لیفٹننٹ جنرل محمد عاصم ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔













