اگر کوئی پوچھے کہ گوشت کی صنعت کی سب سے قیمتی ضمنی پیداوار کیا ہے تو شاید زیادہ تر لوگ گائے کے پتھریاں نہ کہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ چھوٹے سخت ہوئے ہاضمے کی رطوبت کے ٹکڑے واقعی اپنے وزن کے مطابق سونے کے برابر یا اس سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بہادر گائے نے جان پر کھیل کر اپنی ساتھی کو چیتے کا شکار بننے سے بچایا، ویڈیو وائرل
ہزاروں سالوں سے گائے کے پتھریاں چینی روایتی دوا میں مختلف سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہو رہی ہیں جن میں ہائی بلڈ پریشر اور قلبی امراض شامل ہیں۔ چین میں فالج کی شرح اب امریکا سے 3 گنا زیادہ ہونے کے باعث گائے کے پتھریوں کی طلب پہلے سے کہیں زیادہ ہے اور ان کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سنہ 2025 میں گائے کے پتھریوں کی قیمت فی اونس 5,800 ڈالر تک پہنچ گئی جو اس وقت سونے کی قیمت سے دوگنی تھی۔ اس وقت بھی اگر گائے کے پتھریوں کی قیمت اسی سطح پر برقرار ہے تو یہ اب بھی سونے سے زیادہ قیمتی ہیں۔
مزید پڑھیے: گائے کو برگر کھلانے کی ویڈیو وائرل، ’بعد میں ہم ان کا برگر کھائیں گے‘
نیو ہوانگ کے نام سے فروخت ہونے والے یہ پتھریاں بنیادی طور پر اینگونگ نیو ہوانگ وان نامی روایتی دوا کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں جو شدید نیورولوجیکل بیماریوں جیسے فالج، بخار کی وجہ سے بے ہوشی اور ہوش و حواس میں تعطل وغیرہ کے علاج کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔
گائے کے پتھریوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہمیشہ قلت رہا ہے۔ عمر کے ساتھ پتھری بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں لیکن دنیا بھر کے زیادہ تر مذبح خانوں میں گائے کو کم عمر میں ذبح کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ زرعی کارکردگی بہتر ہو۔ پتھریوں کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں نے برازیل، آسٹریلیا اور امریکا کے ٹیکساس جیسے علاقوں میں گائے پالنے والوں میں سنسنی پیدا کر دی ہے۔
مسلح افراد گائے نہیں اس کی پتھریاں لوٹ کر لے جاتے ہیں
حال ہی میں برازیل کے شہر ساو پالو کے دیہی علاقے باہیٹس میں گائے کے پتھریوں کی سمگلنگ اور چوری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جہاں مسلح مجرم گائے کے فارم پر حملہ کر کے جانور نہیں بلکہ پتھریاں چرا لیتے ہیں۔
قصاب گھر کے ملازمین کی جانب سے پتھریوں کی اسمگلنگ بھی بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے ایک فعال بلیک مارکیٹ قائم ہو گئی ہے۔
بلکل جیسے قدرتی ہیرے کی طلب نے لیبارٹری میں تیار کیے گئے ہیرے پیدا کیے، اسی طرح چینی محققین نے کلچرڈ پتھریاں تیار کی ہیں جو جزوی طور پر قدرتی پتھریوں کے نیوروپروٹیکٹیو اور ہیپاٹوپروٹیکٹیو اثرات فراہم کرتے ہیں اور ان کی زہریلا پن بھی قابو میں ہے۔
مزید پڑھیں: مریم نواز کا خواتین کو خود کفیل بنانے کے لیے مفت گائے اور بھینسیں دینے کا اعلان
قدرتی پتھریاں اب بھی معیار کے طور پر بہترین مانی جاتی ہیں لیکن یہ مصنوعی متبادل کم از کم قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روک سکتے ہیں۔














