پنجاب میں کفایت شعاری مہم کے باوجود اعلیٰ عدلیہ کے لیے کروڑوں روپے کی گاڑیاں کیوں خریدی جا رہی ہیں؟

جمعہ 20 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب حکومت کی جانب سے کفایت شعاری مہم کے دوران اعلیٰ عدلیہ کے لیے کروڑوں روپے کی نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ گاڑیاں صرف اس لیے خریدی جا رہی ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے سرکاری طور پر ایک ریکویزیشن دی گئی تھی۔ حکومت نے اس ریکویزیشن کو منظور کرتے ہوئے انہیں اجازت دے دی ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب کابینہ نے واضح طور پر فیصلہ کیا ہے کہ پنجاب کے اندر کوئی بھی محکمہ یا ادارہ نئی گاڑیاں نہیں خرید سکتا، لیکن اعلیٰ عدلیہ کی گاڑیاں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایمرجنسی آپریشنل ضروریات کے لیے نئی گاڑیاں خریدی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے چیئرمین سینیٹ کے لیے نئی گاڑی خریدنے کی خبریں، سینیٹ سیکریٹریٹ نے وضاحت کردی

اس فیصلے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ مخالفین اور سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جب حکومت عوام سے بجلی، گیس، پٹرول اور ٹیکس کی شکل میں بھاری بوجھ اٹھانے کو کہہ رہی ہے اور کفایت شعاری کا ڈھول پیٹ رہی ہے تو خود اعلیٰ عدلیہ کے لیے کروڑوں روپے کی گاڑیاں خریدنا دوہرا معیار ہے۔

بعض تجزیہ کاروں نے اسے کفایت شعاری کی جعلی مہم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر واقعی بچت کرنی ہے تو عدلیہ سمیت سب پر یکساں پابندی لگنی چاہیے۔

ججز کے لیے گاڑیوں کی خریداری، پنجاب حکومت کا موقف

اس ساری صورتحال پر صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ:

’کفایت شعاری کی مہم مکمل طور پر جاری ہے۔ وزراء کا پیٹرول مکمل بند کر دیا گیا ہے۔ سرکاری افسران کے پیٹرول میں شدید کمی کی گئی ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے فیصلہ کیا کہ وزرا 2 ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے۔ ایم پی ایز اور اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں بھی کٹوتی کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے آج تک ایک روپیہ تنخواہ نہیں لی اور نہ ہی کوئی مراعات لی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے پنجاب: نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی اور دفاتر میں ایئرکنڈیشن کم استعمال کرنے کی ہدایت

پنجاب میں گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی ہے۔ صرف اعلیٰ عدلیہ کی ریکویزیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایمرجنسی ضرورت پر اجازت دی گئی ہے۔

ایندھن بچانے کے لیے ورک فرام ہوم ہو رہا ہے، فیلڈ ایکٹیویٹیز بند ہیں۔ کل کابینہ کا پہلا اجلاس ویڈیو لنک پر ہوا۔

ہم عوام کے ساتھ ہیں۔ عوام کا بوجھ ہم بھی شیئر کر رہے ہیں۔‘

عظمیٰ بخاری نے یہ بھی کہا کہ یہ استثنیٰ صرف ان اداروں تک محدود ہے جن کی کارروائی اور انصاف کی فراہمی کے لیے گاڑیوں کی ضرورت ہے، جبکہ باقی تمام محکموں پر پابندی برقرار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور چین کا مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر اتفاق

آج شہباز شریف نہیں ’شاباش شریف‘، کامیاب سفارتکاری پر پاکستانی فنکار بھی میدان میں

اسلام آباد: سری نگر ہائی وے پر ڈائیورشنز، شہریوں کو اضافی وقت لے کر سفر کی ہدایت

بنگلہ دیش کرکٹ تنازع: بُلبُل کا آئی سی سی سے مداخلت کا مطالبہ

صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایرانی اچھے مذاکرات کار ہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

ویڈیو

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

اسکردو میں سانحہ گیاری کے شہدا کی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟