عید کی نماز سے پہلے کی روایات، سعودی معاشرے کی ثقافتی اور مذہبی زندگی کا اہم حصہ

ہفتہ 21 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب میں عید کی نماز سے پہلے کی ساعت کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ وقت خاندانوں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے اور عید کی تیاریوں کو مکمل کرنے کا ہوتا ہے۔ لوگ اس وقت میں اپنے گھروں کو سجانے، نئے کپڑے پہننے اور بچوں کے لیے تحائف تیار کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:آئی جی اسلام آباد کی شہدا کی فیملیز کے ساتھ عید، پولیس لائنز میں پر وقار اجتماع

عید کی نماز سے پہلے کی ساعت میں مساجد کی جانب روانگی کا بھی ایک خاص اہتمام ہوتا ہے۔ لوگ اپنے خاندان کے ساتھ مل کر مساجد کی طرف جاتے ہیں جہاں عید کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ اس موقع پر لوگ ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ وقت نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی لحاظ سے بھی اہم ہوتا ہے۔ لوگ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، کھانے پینے کا اہتمام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں بانٹتے ہیں۔ عید کی نماز کے بعد لوگ اپنے عزیزوں کی قبروں پر بھی جاتے ہیں اور ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کرم کا دورہ، عیدالفطر فوجی جوانوں کے ساتھ منائی

یہ روایات سعودی معاشرے کی ثقافتی اور مذہبی زندگی کا اہم حصہ ہیں اور ان کا مقصد محبت، بھائی چارہ اور اتحاد کو فروغ دینا ہے۔ عید کی یہ ساعتیں سعودی معاشرتی زندگی میں خوشی اور محبت کے لمحات کو بڑھاوا دیتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران مذاکرات: نائب صدر جے ڈی وینس کو پاکستان یا ترکی بھیجنے کی قیاس آرائیاں

قاسم خان کا جنیوا میں بی این ایم رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب، پاکستان مخالف حلقوں سے روابط پر سوالات

ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے، امریکا کا انتباہ

ڈونلڈ ٹرمپ کے 14 اور 15 مئی کو دورہ چین کا اعلان، صدر شی جن پنگ سے ملاقات طے

ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑی کمپنیوں کے سربراہان کو صدارتی سائنس و ٹیکنالوجی کونسل میں شامل کرلیا

ویڈیو

ٹرمپ کی چیخیں، امریکا لیٹ گیا، اسلام آباد میں اہم بیٹھک، مذاکرات خفیہ کیوں؟

اورکزئی کی رابعہ بصری جو حصول علم کے لیے میلوں پیدل سفر کرتی ہیں

گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاکستان کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا عزم

کالم / تجزیہ

کرکٹ ورلڈ کپ 92‘ فتح کا 34واں سال

کیا عارضی جنگ بندی مستقل ہو سکتی ہے؟

جالب نامہ