سعودی عرب میں عید کی نماز سے پہلے کی ساعت کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ وقت خاندانوں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے اور عید کی تیاریوں کو مکمل کرنے کا ہوتا ہے۔ لوگ اس وقت میں اپنے گھروں کو سجانے، نئے کپڑے پہننے اور بچوں کے لیے تحائف تیار کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں:آئی جی اسلام آباد کی شہدا کی فیملیز کے ساتھ عید، پولیس لائنز میں پر وقار اجتماع
عید کی نماز سے پہلے کی ساعت میں مساجد کی جانب روانگی کا بھی ایک خاص اہتمام ہوتا ہے۔ لوگ اپنے خاندان کے ساتھ مل کر مساجد کی طرف جاتے ہیں جہاں عید کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ اس موقع پر لوگ ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ وقت نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی لحاظ سے بھی اہم ہوتا ہے۔ لوگ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، کھانے پینے کا اہتمام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں بانٹتے ہیں۔ عید کی نماز کے بعد لوگ اپنے عزیزوں کی قبروں پر بھی جاتے ہیں اور ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کرم کا دورہ، عیدالفطر فوجی جوانوں کے ساتھ منائی
یہ روایات سعودی معاشرے کی ثقافتی اور مذہبی زندگی کا اہم حصہ ہیں اور ان کا مقصد محبت، بھائی چارہ اور اتحاد کو فروغ دینا ہے۔ عید کی یہ ساعتیں سعودی معاشرتی زندگی میں خوشی اور محبت کے لمحات کو بڑھاوا دیتی ہیں۔














