عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوامی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے اثرات ایندھن سے لے کر روزمرہ اشیائے خورونوش تک محسوس کیے جا رہے ہیں جس کے پیش نظر انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) نے توانائی کے استعمال میں کمی لانے کے لیے اہم تجاویز پیش کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے؟
آئی ای اے کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے تیل اور گیس کی کھپت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ گھروں سے کام (ورک فرام ہوم) کو فروغ دینے سے سڑکوں اور فضائی سفر میں کمی آئے گی جس سے ایندھن کی بچت ممکن ہوگی۔
اسی طرح اسمارٹ ہیٹنگ اور کولنگ سسٹمز اور الیکٹرک کُکنگ آلات کے استعمال سے گیس کے استعمال کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت سے بھی فائدہ اٹھانے کی تجویز
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیاں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے اپنے لاجسٹک نظام کو بہتر بنا سکتی ہیں جس کے نتیجے میں ایندھن کی کھپت کم کی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: تیل سپلائی چین کو چیلنجز، ذخائر بہتر ہونے کے باوجود دباؤ برقرار
آئی ای اے کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں توانائی کی طلب کو کم کرنا فوری اور مؤثر حل ہے جبکہ ٹیکنالوجی کا بڑھتا استعمال اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
واضح رہے کہ 28 فروری کے بعد سے خام تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے اور یہ سنہ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے پاس تیل کے ذخائر کتنے اور معیشت کی صورتحال کیا، وزرارت خزانہ نے بتادیا
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، میں رکاوٹ کے باعث سپلائی میں شدید دباؤ پیدا ہوا ہے۔
ہنگامی ذخائر کے استعمال کی منظوری
آئی ای اے نے اپنی تاریخ میں پہلی بار بڑے پیمانے پر اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو کے استعمال کی منظوری دی ہے جس کے تحت مختلف ممالک اپنے ہنگامی تیل کے ذخائر استعمال کر سکیں گے۔
اداروں کے لیے فوری اقدامات کی سفارش
رپورٹ میں اداروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ فوری نتائج کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات اپنائیں جن میں ریموٹ ورک، کار پُولنگ (کار شیئرنگ) ایپس، پبلک ٹرانسپورٹ ٹریکنگ سسٹمز اور الیکٹرک کُکنگ ٹیکنالوجیز شامل ہیں کیونکہ یہ اقدامات تیل کی پیداوار بحال ہونے کا انتظار کرنے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اثر دکھا سکتے ہیں۔













