وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر 69 ارب روپے کا اضافی بوجھ خود برداشت کیا ہے، جبکہ معاشی اور توانائی چیلنجز کے باوجود ملک میں استحکام اور سپلائی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
عوامی ریلیف اور معاشی حکمت عملی
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت محدود وسائل کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوشاں ہے۔ ان کے مطابق مستحق طبقات کے لیے ایک ٹارگٹڈ ریلیف پیکیج تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ عوام اور ماہرین سے تجاویز بھی طلب کی گئی ہیں تاکہ بہتر پالیسی سازی ممکن ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پٹرولیم، آئی ٹی اور خزانہ سمیت تمام متعلقہ وزارتیں مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہیں تاکہ معاشی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
توانائی صورتحال اور سپلائی کا نظام
وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک کو درپیش توانائی چیلنجز اور علاقائی کشیدگی کے باعث توانائی انفراسٹرکچر کو خطرات لاحق ہیں، تاہم حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عید کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان
انہوں نے بتایا کہ اس ہفتے پیٹرول کی قیمت میں 150 روپے اور ڈیزل میں 250 روپے تک کے اضافے کو روکا گیا ہے، جبکہ حکومت نے 69 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کیا تاکہ عوام پر اضافی دباؤ نہ پڑے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپلائی سسٹم کو مکمل طور پر مانیٹر کیا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ اپریل تک سپلائی کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔
معاشی صورتحال اور مستقبل کے اقدامات
محمد اورنگزیب نے کہا کہ محدود وسائل کے پیش نظر پائیدار اور دیرپا حل ضروری ہیں، اسی لیے ڈیمانڈ مینجمنٹ اور توانائی بچت کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی صورتحال، تجارت اور سرمایہ کاری پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہی ہے اور بہتری کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے عیدالفطر کے موقع پر قوم کو مبارکباد بھی دی اور ملک میں استحکام اور سلامتی کے لیے دعا کی۔














