ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ فائبر صحت کے لیے ضروری ضرور ہے، مگر اس کا حد سے زیادہ استعمال معدے کے مسائل پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر پانی کم پیا جائے۔
سوشل میڈیا پر اکثر یہ بتایا جاتا ہے کہ زیادہ فائبر کھانے سے صحت بہتر ہوتی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ بات مکمل درست نہیں۔ فائبر جسم کے لیے مفید ہے، مگر اس کی مقدار کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فائبر کا استعمال ہماری عقل اور یادداشت کو کیسے محفوظ رکھتا ہے؟
ایک ماہر ڈاکٹر کے مطابق مردوں کے لیے روزانہ تقریباً 38 گرام اور خواتین کے لیے 25 گرام فائبر مناسب مقدار سمجھی جاتی ہے۔ اس سے کچھ زیادہ فائبر بھی لیا جا سکتا ہے، لیکن اعتدال ضروری ہے۔
زیادہ فائبر کے نقصانات
اگر روزانہ 40 سے 50 گرام سے زیادہ فائبر لیا جائے، تو یہ فائدے کے بجائے نقصان بھی دے سکتا ہے۔ اس سے پیٹ میں گیس، اپھارہ اور درد جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات پانی کم پینے کی صورت میں قبض بھی بڑھ سکتی ہے۔
Too much fibre without adequate water intake may lead to bloating and abdominal discomforthttps://t.co/SNT7h1VSH5
— NDTV Lifestyle (@ndtvLifestyle) March 22, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ فائبر پانی جذب کرتا ہے، اس لیے اگر پانی مناسب مقدار میں نہ پیا جائے تو پاخانہ سخت ہو جاتا ہے اور ہاضمہ متاثر ہوتا ہے۔
پانی اور متوازن غذا ضروری
ڈاکٹروں کے مطابق روزانہ کم از کم 2 سے 3 لیٹر پانی پینا ضروری ہے، خاص طور پر جب آپ فائبر زیادہ لے رہے ہوں۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ فائبر کو آہستہ آہستہ غذا میں شامل کیا جائے تاکہ معدہ اسے برداشت کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے سے ’ رحم‘ کے فائبرائیڈز کو روکا جاسکتا ہے
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہر فائبر ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ فائبر (جیسے دلیہ) ہاضمہ بہتر بناتے ہیں جبکہ کچھ صرف مقدار بڑھاتے ہیں، اس لیے متوازن غذا اختیار کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے نہ بہت کم اور نہ ہی بہت زیادہ فائبر لیں، بلکہ متوازن مقدار، مناسب پانی اور آہستہ آہستہ تبدیلی کو اپنی عادت بنائیں۔














