سعودی عرب نے ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ 2026 میں نمایاں بہتری دکھاتے ہوئے 15 درجے ترقی کے ساتھ عالمی سطح پر 22ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
اس پیش رفت کو مملکت میں بڑھتے معیارِ زندگی میں بہتری سے جوڑا جا رہا ہے، جو کہ وژن 2030 کے تحت جاری اصلاحات کا نتیجہ ہے۔
یہ رپورٹ دنیا کے 147 ممالک کا جائزہ لیتی ہے اور اس میں لوگوں کی جانب سے اپنی زندگی کے بارے میں دی گئی رائے کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں عید کا ناشتہ: منفرد روایت جو خاندانوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنتی ہے
یہ ڈیٹا عالمی ادارے گیلپ کے سرویز کے ذریعے جمع کیا جاتا ہے اور اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ سلوشنز نیٹ ورک کے تحت اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے
سعودی عرب کا لائف ایویلیوایشن اسکور 10 میں سے 6.817 رہا، جو 2023 سے 2025 کے اوسط اعداد و شمار پر مبنی ہے۔
اس درجہ بندی میں سعودی عرب نے 23ویں درجے پر موجود امریکا، 25ویں درجے پر فائز کینیڈا اور 29ویں درجے پر موجود برطانیہ جیسے بڑے ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

رپورٹ میں خوشی اور اطمینانِ زندگی کو جانچنے کے لیے مختلف معاشی و سماجی اشاریوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے، جن میں فی کس آمدنی، سماجی تعاون، صحت مند زندگی کی توقع، ذاتی فیصلوں کی آزادی، سخاوت اور بدعنوانی کے تاثر شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق سعودی عرب کی درجہ بندی میں بہتری اس بات کی عکاس ہے کہ گزشتہ دہائی میں اصلاحات کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بڑھے، انفراسٹرکچر بہتر ہوا اور تفریح، ثقافت اور عوامی مقامات تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔
ویژن 2030 کے تحت ‘کوالٹی آف لائف پروگرام’ سمیت مختلف اقدامات شہری زندگی کو بہتر بنانے اور ثقافتی و تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جاری ہیں، جن کے اثرات عوام کی روزمرہ زندگی میں واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔
International Day of Happiness
World Happiness Report ranks Finland happiest for a 9th year; #India rises to 116 in 2025 but lags on health, social support, generosity and corruption perception, with overall score down over a decade.
Read today's #Datanomics 👇…
— Business Standard (@bsindia) March 20, 2026
دمام سے تعلق رکھنے والے پولیس افسر احمد الدوسری کے مطابق مشرقی صوبے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارکس، تقریبات اور خاندانی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے لوگوں میں سماجی میل جول بڑھا ہے۔
اسی طرح ریاض میں مقیم انگریزی کی ٹیچر سارہ التمیمی نے بھی سماجی ماحول میں مثبت تبدیلی کی توثیق کی۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کا تاریخی شہر قُرح: العُلا کی تہذیبی و تجارتی روایت کا آئینہ
‘اب نوجوانوں اور خاندانوں کے لیے تفریح کے زیادہ مواقع موجود ہیں، اور شہر میں ہونے والی تقریبات اور نئے مقامات ایک مثبت فضا قائم کر رہے ہیں۔’
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سماجی اعتماد، مضبوط تعلقات اور کمیونٹی سپورٹ خوشی کے احساس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جن ممالک میں یہ عناصر مضبوط ہوتے ہیں، وہ عالمی درجہ بندی میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔

حسبِ روایت، فن لینڈ ایک بار پھر دنیا کا خوش ترین ملک قرار پایا، جبکہ مجموعی طور پر نورڈک ممالک اس عالمی فہرست میں سرفہرست رہے۔
مشرق وسطیٰ میں خلیجی ممالک عمومی طور پر بلند معیارِ زندگی اور مضبوط عوامی خدمات کے باعث بہتر پوزیشنز حاصل کرتے ہیں۔
تاہم سعودی عرب کی 22ویں پوزیشن تک ترقی اس سال کی نمایاں کامیابیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔














