بدلتا سعودی معاشرہ: عید اب صرف تہوار نہیں، ایک نیا تجربہ

پیر 23 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

الخبر: اس سال سعودی عرب میں عیدالفطر منانے کا انداز تیزی سے بدل رہا ہے، جہاں بڑھتی ہوئی تعداد میں خاندان گھروں کے بجائے ہوٹلوں میں عید گزارنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

یہ رجحان ‘اسٹے کیشن’ یعنی مقامی تعطیلات کے بڑھتے ہوئے تصور کی نشاندہی کرتا ہے، جو روایتی گھریلو میل جول کی جگہ لیتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اصلاحات رنگ لے آئیں، سعودی عرب کی خوشی کے عالمی انڈیکس میں نمایاں ترقی

یہ تبدیلی بڑے شہروں میں واضح طور پر دیکھی جا رہی ہے، جہاں ریاض، جدہ اور الخبر کے اعلیٰ درجے کے ہوٹلوں میں عید کے دوران بکنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔

بہت سے خاندانوں کے لیے اس رجحان کی بڑی وجہ سہولت ہے۔ گھر پر عید منانے کے لیے کئی دنوں کی تیاری درکار ہوتی ہے، جس میں صفائی، کھانا پکانا اور رشتہ داروں کی آمد و رفت کا انتظام شامل ہوتا ہے۔

شہری سعودیوں کا ایک طبقہ اب اس محنت کو آؤٹ سورس کرنا پسند کر رہا ہے۔

ہوٹلوں نے بھی اس طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی پیکجز متعارف کروائے ہیں، جن میں رہائش کے ساتھ اجتماعی کھانے، بچوں کی سرگرمیاں، ثقافتی پروگرام اور نماز کی سہولیات شامل ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں عید کا ناشتہ: منفرد روایت جو خاندانوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنتی ہے

اس کا مقصد عید کی سماجی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے گھریلو محنت کو کم کرنا ہے۔

الخبر سے تعلق رکھنے والی لُولوا الراشد نے بتایا کہ پہلے ان کی فیملی عید سے پہلے پورا ہفتہ گھر کی صفائی اور 50 مہمانوں کے لیے کھانے کی تیاری میں گزارتی تھی۔

پچھلے سال ہم نے ایک مقامی ریزورٹ میں 3 سوئٹس بک کیے۔

‘ہم نے فیملی کے ساتھ ناشتہ تو کیا، لیکن ہوٹل نے سب کچھ سنبھالا۔ یہ پہلا موقع تھا جب میری والدہ نے بغیر کام کیے عید سے لطف اٹھایا۔’

یہ رجحان قومی سیاحتی اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے۔ سعودی ٹورازم اتھارٹی نے وژن 2030 کے تحت ملکی سیاحت کو اہم ترقی کا ذریعہ قرار دیا ہے، اور ہدف ہے کہ دہائی کے اختتام تک سیاحت کا مجموعی قومی پیداوار میں حصہ 10 فیصد تک پہنچ جائے۔

عید کے مواقع مقامی سفری کیلنڈر میں سب سے زیادہ مصروف اوقات میں شمار ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کی وادی الحمضہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئی

اسی دوران ہوٹلنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری نے رہائش کے معیار اور مواقع کو بھی بہتر بنایا ہے۔ ریڈ سی پروجیکٹ اور شہری علاقوں میں بوتیک ہوٹلوں کے قیام نے مقامی سیاحت کو نئی شکل دی ہے۔

ریاض سے تعلق رکھنے والے فہد العتیبی کا کہنا ہے کہ پہلے انہیں لگتا تھا کہ حقیقی چھٹیوں کے لیے یورپ یا دبئی جانا ضروری ہے۔

‘اب العلا اور ریڈ سی جیسے منصوبوں کے بعد ہوائی سفر کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔’

تاہم، اس نئے انداز کو ہر کوئی پسند نہیں کرتا۔ خاص طور پر پرانے محلوں میں رہنے والے افراد کا ماننا ہے کہ ہوٹلوں میں عید منانے سے وہ کھلا پن اور بے ساختہ میل جول ختم ہو جاتا ہے جو اس تہوار کی پہچان تھا۔

گھروں کے درمیان آنا جانا، دروازے کھلے رکھنا اور گلیوں میں میل ملاقات عید کا اہم حصہ رہا ہے، ہوٹل کا ماحول نسبتاً محدود ہوتا ہے اور اس کے اخراجات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

دوسری جانب نوجوان نسل اس تبدیلی کو مختلف انداز میں دیکھتی ہے۔ ان کے نزدیک یہ روایت کو ترک کرنا نہیں بلکہ اسے نئے انداز میں ترتیب دینا ہے۔

مزید پڑھیں: مکہ و مدینہ میں رمضان کے دوران افطار کے 33.8 ملین کھانوں کی تقسیم

 جدہ میں مقیم مونا الزہرانی کہتی ہیں کہ یہ خاندان سے دور ہونے کا معاملہ نہیں، بلکہ ہم ایک ساتھ گزارے گئے وقت کو زیادہ بامعنی بنانا چاہتے ہیں۔

‘ریزورٹ میں ہم گھریلو کاموں سے آزاد ہوتے ہیں، اور یوں روزوں کے بعد یہ واقعی ایک انعام محسوس ہوتا ہے۔’

یہ رجحان اخراجات کے انداز کو بھی تبدیل کر رہا ہے۔ پہلے جو بجٹ دبئی، لندن یا استنبول جیسے بیرونی مقامات پر خرچ ہوتا تھا، اب وہ ملک کے اندر ہی استعمال ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں ابتدائی اسلامی دور کے شہر قُرح کے آثار، تجارتی اور سماجی رونق کی داستان

اس تبدیلی کے معاشی اثرات بھی ہیں، کیونکہ مقامی ہوٹلوں میں قیام سے ملکی کاروبار، عملہ اور سروس فراہم کرنے والے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

بدلتی ہوئی عید کی روایات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وژن 2030 کے تحت سعودی معاشرہ اور طرزِ زندگی کس طرح تبدیل ہو رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp