امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اس لیے ایرانی پاور پلانٹس پر کسی بھی ممکنہ حملے کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا ٹیکساس کے ڈیموکریٹ امیدوار پر سخت تنقید، سنگین الزامات عائد
یاد رہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیر کو اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور خلیجی خطے میں جاری خطرناک صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا بھی اظہار کیا۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر انہوں نے تمام ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتکاری کی طرف واپسی کی فوری ضرورت پر زور دیا تھا تاکہ اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔
مزید پڑھیے: کیا تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے؟
گزشتہ روز صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد کہ امریکا اب ایران کے پاور پلانٹس پر قبضہ کرے گا، ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر اس کے پاور نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا تو وہ اسرائیل کے بجلی گھروں اور خلیجی خطے میں امریکی اڈوں کو توانائی فراہم کرنے والے تنصیبات پر حملہ کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ 2 روز میں نہایت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل خاتمہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر تمام فوجی حملوں کو 5 دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے اور یہ فیصلہ جاری مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہوگا۔
اس سے قبل ہفتے کے روز صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں کے لیے مکمل طور پر نہ کھولا تو اس کے پاور پلانٹس کو تباہ کر دیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی کارروائیوں کے باعث آبنائے ہرمز میں آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے جو دنیا کی تقریباً 5ویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔
مزید پڑھیں: تیل کے بحران پر قابو پانے کے لیے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے کونسے کام تجویز کیے؟
یاد رہے کہ اس تنازعے نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور عالمی سطح پر مہنگائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جس کے دوران انہوں نے ایرانی صدر اور برادر ایرانی عوام کو عیدالفطر اور نوروز کی دلی مبارکباد پیش کی۔
ایرانی صدر نے بھی گرمجوشی سے جواب دیتے ہوئے پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ بطور ہمسایہ اور برادر ملک، وزیراعظم نے موجودہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے: عید کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان
شہباش شریف نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں اور متاثرین کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔
Lahore: March 23, 2026.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif held a telephone conversation with H.E. Dr. Masoud Pezeshkian, President of the Islamic Republic of Iran, today.
The Prime Minister extended Eid ul Fitr and Nowruz greetings to the Iranian President, and the… pic.twitter.com/y2WFuYmMjr
— Prime Minister's Office (@PakPMO) March 23, 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے خلیجی خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی اور زور دیا کہ تمام متعلقہ ممالک کشیدگی میں کمی لانے، مذاکرات کو فروغ دینے اور سفارتکاری کا راستہ اپنانے کی فوری ضرورت کو سمجھیں تاکہ مسائل کا پرامن حل ممکن بنایا جا سکے۔
انہوں نے اس موقعے پر امت مسلمہ کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جس کی موجودہ حالات میں اشد ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کررہے ہیں، سینیٹر منظور کاکڑ
وزیراعظم نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے آگاہ کرتے ہوئے ایرانی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔














