عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز بڑی کمی دیکھنے میں آئی جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری بات چیت کو مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی امید ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف کا مسعود پزشکیان کو فون: صدر ٹرمپ کا ایران کے پاور پلانٹس پر حملے 5 روز تک مؤخر کرنے کا اعلان
سی این این کے مطابق عالمی معیار برینٹ خام تیل کی قیمت 7 فیصد سے زائد کمی کے بعد تقریباً 104 ڈالر فی بیرل تک آ گئی جبکہ ایک وقت میں یہ 13 فیصد تک بھی گر گئی تھی۔
قبل ازیں اسی روز برینٹ کی قیمت 114 ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔
اسی طرح امریکی معیار ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت بھی 6.9 فیصد کمی کے ساتھ 91.4 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جو دن کے آغاز میں تقریباً 100 ڈالر کے قریب تھی۔
مزید پڑھیے: کیا تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے؟
تاہم اس کمی کے باوجود تیل کی قیمتیں اب بھی 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے پہلے کے مقابلے میں ایک تہائی سے زیادہ بلند ہیں۔
ٹرمپ کا مذاکرات کا دعویٰ
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں میں نہایت مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا مکمل خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات پورے ہفتے جاری رہیں گے۔
مزید پڑھیں: تیل کے بحران پر قابو پانے کے لیے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے کونسے کام تجویز کیے؟
صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ امریکی محکمہ جنگ کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر ممکنہ حملے 5 دن کے لیے مؤخر کر دیے جائیں جس کا انحصار جاری مذاکرات کی کامیابی پر ہوگا۔














