ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی حالیہ بات چیت میں پاکستان، ترکی اور مصر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف کا مسعود پزشکیان کو فون: صدر ٹرمپ کا ایران کے پاور پلانٹس پر حملے 5 روز تک مؤخر کرنے کا اعلان
خبر رساں ادارے رائٹرز کے رپورٹر کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ایران چاہتا ہے کہ امریکا جو جنگ کا آغاز کرنے والا فریق ہے براہِ راست مذاکرات میں شریک ہو۔
رائٹرز کے مطابق اس کے رپورٹر نے ایک امریکی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ گفتگو کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور باقی مسائل کا حل تھا۔
مزید پڑھیے: صدر ٹرمپ کے امریکا ایران مذاکرات کی خبروں پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
پاکستان، ترکی اور مصر کے تعاون سے مذاکرات کے راستے کھل گئے جس سے خطرناک صورتحال کو قابو میں رکھنے میں مدد ملی۔
وائٹ ہاؤس نے مذاکرات کے مواد، شرکا یا مقام کے بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اعلان کیا کہ انہوں نے ایرانی بجلی گھروں پر کسی بھی فوجی حملے کو 5 دن کے لیے مؤخر کرنے کے احکامات دیے ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا مسعود پزشکیان کو فون: خطے میں امن کے لیے مذاکرات پر زور
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ گزشتہ 2 دنوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان بہت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا مکمل خاتمہ ہے۔














